
ایکنا نیوز- قرآنِ کریم دشمن کے ساتھ جنگ کے بارے میں تین اصول بیان کرتا ہے: اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں، اور زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (البقرہ: 190) پہلا اصول یہ ہے کہ جنگ اللہ کے لیے اور اسی کی راہ میں ہو۔ دوسرا یہ کہ جنگ صرف جارح دشمن کے خلاف ہو اور جب تک جنگ مسلط نہ کی جائے، ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ تیسرا یہ کہ میدانِ جنگ میں بھی حد سے تجاوز نہ کیا جائے اور اخلاقی اصولوں کی پابندی کی جائے۔ لہٰذا صہیونی رژیم اور امریکہ کے مقابلے میں ایران کا دفاع ایک مشروع اور قرآنی اقدام ہے۔
اس کے بعد کی آیات میں جواب دینے کا طریقہ بھی واضح کیا گیا ہے: پس جو تم پر زیادتی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر کی۔ (البقرہ: 194) اسلام ہر فرد کو یہ حق دیتا ہے کہ اگر اس پر ظلم ہو تو وہ اسی حد تک جواب دے۔ مثال کے طور پر اگر دشمن کسی دوسرے ملک سے کسی مسلمان ملک پر حملہ کرے تو اسی طرز پر متجاوز کے مفادات کو نشانہ بنانے کا حق موجود ہے۔ مثلاً اگر ایران کے تیل و گیس کے ریفائنریوں پر بمباری کی جائے تو ایران تادیبی اور دفاعی طور پر ان ممالک میں دشمن کے مفادات اور سرمایہ کاری کو نشانہ بنا سکتا ہے جو اسے سہولت فراہم کر رہے ہوں۔
تجاوز اُس وقت مذموم ہے جب وہ ابتدائی ہو اور دوسروں کی زیادتی کے جواب میں نہ ہو۔ لیکن اگر کوئی معاشرہ ظلم، غلامی اور ذلت کو قبول نہ کرے اور جارحیت کا جواب دے تو یہ ایک بڑی فضیلت شمار ہوتی ہے؛ کیونکہ ظالم کے سامنے جھک جانا موت کے برابر ہے جبکہ مزاحمت زندگی کے مترادف ہے۔