
ایکنا نیوز- جب کچھ مسلمان مکہ میں مشرکین کے مقابلے کی اجازت مانگتے تھے تو رسولِ اکرم ﷺ، جہاد کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے، ان کی درخواست رد کر دیتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۂ حج کی آیت 39 نازل فرمائی: ان لوگوں کو (جنگ کی) اجازت دے دی گئی ہے جن پر ظلم کیا گیا ہے اور ان سے جنگ کی جا رہی ہے، اور بے شک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔
بعض مفسرین کے نزدیک یہ پہلی آیت ہے جس میں رسولِ اکرم ﷺ کو باقاعدہ جہاد اور مسلح جدوجہد کی اجازت دی گئی، کیونکہ آپؐ کی جدوجہد کئی مراحل پر مشتمل تھی:
دعوت، قلبی اصلاح اور افراد کی تربیت
تنظیم اور قوت کی تیاری
دفاع یا مقابلہ
اس سے پہلے والی آیت (حج: 38) میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دفاع کا وعدہ فرمایا تھا: "بے شک اللہ ایمان والوں کا دفاع کرتا ہے" اور اس آیت میں جہاد کی اجازت دی گئی۔ یعنی مسلمانوں کو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں اور اللہ کی مدد کا انتظار کرتے رہیں، بلکہ اللہ کی نصرت اس وقت آتی ہے جب انسان خود اٹھ کر کوشش اور جدوجہد کرے۔
آیت کے آخر میں کامیابی کی ضمانت بھی دی گئی ہے: "اور بے شک اللہ ان کی مدد پر یقیناً قادر ہے" (حج: 39)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ دنیا کے اسباب میں جتنی بھی ان کے پاس طاقت اور وسائل ہیں انہیں استعمال کریں، اور جہاں ان کی طاقت ختم ہو جائے وہاں اللہ کی مدد کے منتظر رہیں۔ یہی وہ اصول تھا جسے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی تمام جدوجہد میں اپنایا اور کامیاب ہوئے۔