
ایکنا نیوز- ایسے مسائل جن کے بارے میں حکومت کا خیال تھا کہ انہیں کبھی مقامی، عرب اور اسلامی رائے عامہ بیک وقت نہیں اٹھائے گی، مگر وقت بدل چکا ہے۔
ان مطالبات میں درج ذیل سوالات شامل ہیں: کیا غیر ملکی فوجی موجودگی مکمل خودمختاری کے تصور سے مطابقت رکھتی ہے؟ اس کا قومی شناخت پر کیا اثر ہے؟ کیا شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس غیر ملکی موجودگی پر سوال اٹھائے؟ کیا وہ ملک جو کسی سپر پاور کے فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے، آزاد خارجہ فیصلے کر سکتا ہے؟ بدلتی جنگوں کے تناظر میں اس موجودگی کا بحرین پر کیا اثر ہے؟ کیا یہ ایک ایسی ذمہ داری میں تبدیل نہیں ہو چکی جس کے باعث خطے میں سیکیورٹی تعلقات کی نوعیت پر نظرثانی ضروری ہو گئی ہے؟ کیا کسی بھی ملک کی حقیقی سلامتی غیر ملکی فوجی اڈوں پر انحصار سے حاصل ہوتی ہے یا قومی خودمختاری کے استحکام سے؟ ان ممالک کے تجربات سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین سے غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ کیا؟
سوالات تو بہت ہیں، لیکن سب سے پہلے قانونی حقیقت کے مسئلے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، چاہے ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے منشور کو پامال ہی کیوں نہ کیا ہو۔ دو طرفہ سیکیورٹی معاہدوں کے باوجود یہ لازمی نہیں کہ عوام بھی ایک آزاد فوجی وابستگی کو قبول کریں۔ رسمی معاہدے لازماً سیاسی جواز فراہم نہیں کرتے۔ عوامی جواز کا واضح راستہ ہوتا ہے، یا تو ایک مکمل بااختیار منتخب پارلیمان کے ذریعے یا عوامی ریفرنڈم کے ذریعے۔
یقیناً، امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا ان طریقہ کار کے تحت ایسے ملک میں قائم نہیں ہوا جو مسلسل بحرانوں کا شکار ہے اور جہاں سیاسی قیدیوں کی جیلوں کے دروازے اب بھی ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرے۔ مجموعی طور پر، قانونی حقیقت پر بحث ایک تخصصی رائے کی متقاضی ہے، لیکن یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو اس مضمون کے عنوان اور اشتعال انگیز مہمات کا جواب دیتا ہے؛ قومی خودمختاری ناقابلِ تقسیم ہے اور عوام کی سیاسی عزت ان کی سرزمین پر اختیار سے جدا نہیں ہو سکتی۔
یہاں ہم ایک ایسی حکومت کے سامنے ہیں جو سیکیورٹی فیصلوں میں آپ کی شراکت دار ہے اور حتیٰ کہ ایران کے خلاف اس مجرمانہ جنگ میں آپ کو زبردستی شریک کرتی ہے۔ کون جانتا ہے کہ وہ امریکی فوجی افسر، جو بحرین کے وزیر داخلہ یا مسلح افواج کے سربراہ کی رہنمائی کرتا ہے، کس رینک کا ہے؟ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ ٹرمپ کس طرح اپنے اتحادیوں کو براہِ راست نشریات میں ذلیل اور تمسخر کا نشانہ بناتا ہے؟
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بحرین کی وزارتِ داخلہ کے سیکیورٹی کمرے کے پاس اس بات کا کوئی جواب ہے کہ امریکہ کی فوجی موجودگی جاری رکھنے کا فائدہ کیا ہے، خاص طور پر ان بے شمار نقصانات کے بعد جو بحرین کی سرزمین کو ایک ہمسایہ مسلمان ملک پر حملے کے لیے استعمال کرنے کے نتیجے میں ہوئے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ٹرمپ امریکی فوجی اڈے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا مالی معاوضہ بھی بحرین کے بجٹ سے طلب کرے گا، وہ بجٹ جو پہلے ہی ٹیکسوں میں اضافے اور معاشی ناکامیوں کا شکار ہے، جن کی وجہ غیر دانشمندانہ پالیسیاں ہیں، جن میں اندرونی سیکیورٹی محاصرے کو بڑھانے کے لیے دیوانہ وار فوجی اخراجات بھی شامل ہیں۔
بحرین میں امریکی فوجی موجودگی پہلی بار دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی تنصیبات کے ذریعے قائم ہوئی، اور بحرین کی آزادی کے بعد بھی فوجی تعاون جاری رہا۔ 1995 سے یہ امریکی پانچویں بحری بیڑے کا مستقل مرکز بن گیا، اور یوں خطے میں امریکی فوجی اثر و رسوخ کا ایک اہم ذریعہ بن گیا۔
تاہم، 1940 کی دہائی سے اب تک یہ موجودگی سیاسی اور فوجی تبدیلیوں سے گزرتی رہی ہے، اور 1991 کی عراق جنگ نے بھی خطے میں اس فوجی موجودگی کی نوعیت کو بدلنے میں کردار ادا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس موجودگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ یہ امر دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کی اس حکمتِ عملی سے جدا نہیں، جس کے تحت اس نے دنیا بھر میں سینکڑوں فوجی اڈے قائم کیے تاکہ اپنی جنگی کارروائیوں کی حمایت، فوجی طاقت کا مظاہرہ، دشمنوں کو روکنا اور اپنے قومی و تزویراتی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کی جولائی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج دنیا کے 51 ممالک میں 128 سے زائد فوجی اڈے رکھتی ہے یا استعمال کرتی ہے۔ امریکہ اور صہیونی اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی یہ جارحانہ جنگ ہمارے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کا موقع ہونی چاہیے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ موجودگی استعماری منصوبوں، خطے کی تقسیم اور "گریٹر اسرائیل" جیسے منصوبوں کی خدمت کرتی ہے۔
1992 میں فلپائن میں عوامی دباؤ اور سیاسی احتجاج کے نتیجے میں پارلیمان نے معاہدے کی تجدید مسترد کر دی اور امریکی فوجی اڈے کو بند کر دیا، حالانکہ فلپائن امریکہ کا اتحادی تھا اور بعد میں اس نے خودمختاری پر مبنی تعلقات کی طرف پیش رفت کی۔
اسی طرح اسپین، ایکواڈور اور ازبکستان سمیت کئی ممالک میں بھی مختلف درجات میں غیر ملکی فوجی موجودگی کو کم کیا گیا، خاص طور پر ایسے بحرانوں کے بعد جو اس موجودگی سے پیدا ہوئے۔ بحرین، اور عمومی طور پر خلیج کا خطہ، اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے؛ وقت آ گیا ہے کہ یہ فوجی اڈے ہمارے خطے کو چھوڑ دیں۔