ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، تہران کی 27ویں محمد رسول اللہؐ ڈویژن کے کمانڈر سردار حسن حسن زادہ نے نیوز نیٹ ورک کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے شہید رہبر کے جسدِ مطہر کے ساتھ الوداعی مراسم چار اور پانچ جولائی کو تہران کے مصلیٰ میں منعقد ہوں گے۔
وداع، تشییع اور تدفین کمیٹی کے کمانڈر نے بتایا کہ پانچ جولائی کی صبح 6 بجے سے مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے اور یہ تقریبات چھ جولائی کی رات 8 بجے تک جاری رہیں گی۔
تہران میں شہید رہبر کی تشییع کی تقریبات چھ جولائی کی شام تک جاری رہیں گی
انہوں نے مزید کہا کہ موسم کی شدید گرمی کے باعث شہید رہبر کے جسدِ مطہر کی نماز اتوار پانچ جولائی کی صبح مصلیٰ میں ادا کی جائے گی، جس کے وقت اور طریقۂ کار کا بعد میں اعلان کیا جائے گا۔ منصوبہ بندی کے مطابق تشییعِ جنازہ کی تقریبات پیر چھ جولائی کی شام تک مکمل کر لی جائیں گی۔
سردار حسن زادہ نے اعلان کیا کہ شہید رہبر کے اہلِ خانہ کے جنازے بھی ان کے ساتھ تشییع کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شہید امام اور ان کے اہلِ خانہ کے اجسادِ مطہر کو مصلیٰ تہران میں ایک بلند مقام پر رکھا جائے گا تاکہ مصلیٰ کے مرکزی صحن، راہداریوں اور شبستان کی چھت سے انہیں آسانی سے دیکھا جا سکے۔
تہران کی 27ویں محمد رسول اللہؐ ڈویژن کے کمانڈر نے اس تشییع کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصلیٰ کی محدود گنجائش اور بڑی تعداد میں لوگوں کے طویل قیام کی عدمِ سہولت کے باعث ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ لوگ ایک مخصوص راستے سے داخل ہوں، شہداء کے اجسادِ مطہر کی زیارت کریں اور تقریباً 20 منٹ بعد باہر نکل جائیں۔
دارالحکومت میں شہید رہبر کی تشییع میں 2 کروڑ افراد کی شرکت کا تخمینہ
انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ دارالحکومت میں شہید رہبر کی تشییع میں تقریباً 2 کروڑ افراد شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق آئندہ ہفتے ہونے والی اس تقریب میں سب سے اہم مسئلہ گرمی اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ ہے، لہٰذا عوام کو چاہیے کہ بہت زیادہ ہجوم والی جگہوں میں جانے سے گریز کریں، آمدورفت کے دوران سایہ دار راستے اختیار کریں اور غیر ضروری سامان اپنے ساتھ نہ رکھیں تاکہ شدید گرمی میں پیدل چلتے وقت کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
سردار حسن زادہ نے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص اپنے ساتھ پانی کی بوتل اور گلاس رکھے۔ اگر ممکن ہو تو چفیہ، ٹوپی یا دھوپ سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ استعمال کرے تاکہ اپنے لیے سایہ فراہم کر سکے۔ اسی طرح چھوٹے بچوں اور شیر خواروں کو انتہائی ہجوم والی جگہوں پر لانے سے گریز کیا جائے اور بزرگ افراد کو بھی زیادہ گنجان مقامات میں جانے سے روکا جائے۔
وداع، تشییع اور تدفین کمیٹی کے کمانڈر نے عوام سے درخواست کی کہ مصلیٰ کے مرکزی علاقے سے نکلنے کے بعد اطراف کے علاقوں کو جلد از جلد خالی کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصلیٰ کے اطراف میں ’’زائر شہر‘‘ کے عنوان سے پانچ مقامات قائم کیے گئے ہیں جہاں بیت الخلاء، نماز گاہ، پینے کے پانی کی فراہمی، مناسب خوراک اور طبی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ زائرین ان مقامات پر آرام اور سہولیات سے استفادہ کرنے کے بعد اپنی قیام گاہوں کی طرف جا سکتے ہیں۔/
4360728