کوسوو میں تین بہنوں نے ایک ہی دن میں تیسواں پارہ مکمل حفظ کر لیا

IQNA

کوسوو میں تین بہنوں نے ایک ہی دن میں تیسواں پارہ مکمل حفظ کر لیا

7:12 - June 29, 2026
خبر کا کوڈ: 3520378
ایکنا: کوسوو کے دارالحکومت پریشتینا میں قائم قرآنی اکیڈمی" ننھے حفاظ" میں تین بہنوں نے ایک ہی دن میں قرآنِ کریم کے تیسویں پارے (عمّ) کا حفظ مکمل کرکے ایک منفرد قرآنی کامیابی حاصل کی۔

ایکنا نیوز کے مطابق، جب قرآنِ کریم کسی خاندان کی مشترکہ زبان بن جاتا ہے تو انفرادی کامیابیاں اجتماعی کامیابی کی داستان میں بدل جاتی ہیں اور گھر کے تمام افراد تعلیمِ قرآن، حفظِ قرآن اور ایمانی تربیت کے سفر میں شریک ہو جاتے ہیں۔ اسی خوبصورت تصور کی عملی تصویر کوسووو کے دارالحکومت پریشتینا میں دیکھنے کو ملی، جہاں تین بہنیں قرآنِ کریم کے حفظ کے اعزاز میں ایک ساتھ جمع ہوئیں۔

ایک ہی دن میں حفظِ جزء عمّ کی تکمیل

اکیڈمی ’’ننھے حفاظ‘‘ نے بہنوں آسیہ، آتیکا اور سارا ایبیشی کی اس نمایاں کامیابی کا جشن منایا، جنہوں نے ایک ہی دن میں جزء عمّ کا حفظ مکمل کیا۔ یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مشترکہ تعلیمی اور تربیتی سفر کا نتیجہ تھی جس نے تینوں بہنوں کو قرآنِ کریم کی محبت میں یکجا کر دیا۔ یوں قرآنِ مجید ان کی روزمرہ زندگی اور گھریلو ماحول کا لازمی حصہ بن گیا۔

سب سے کم عمر حافظہ نے تین سال کی عمر میں آغاز کیا

اس کامیابی کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ سارا اکیڈمی کی سب سے کم عمر طالبہ ہیں۔ انہوں نے صرف تین سال کی عمر میں قرآنِ کریم کی تعلیم شروع کی اور چار سال کی عمر میں تیسواں پارہ حفظ کر لیا۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر بچوں کو مناسب رہنمائی اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ بہت کم عمری میں بھی قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

قرآن کے ساتھ ایسا سفر جو کبھی ختم نہیں ہوتا

اکیڈمی انتظامیہ نے اس موقع پر کہا کہ قرآنِ کریم کے تیسویں پارے کا حفظ اختتامِ سفر نہیں بلکہ قرآن کے ساتھ ایک طویل اور بابرکت رفاقت کا آغاز ہے۔ یہ سفر صرف حفظ تک محدود نہیں بلکہ قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیمات کو بچے کی شخصیت کا حصہ بنانے پر مشتمل ہے۔

یہ کامیابی اکیڈمی کے اس مشن کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد بچوں کے دلوں میں قرآنِ کریم کی محبت پیدا کرنا اور ایسی نسل کی تربیت کرنا ہے جو علم و عمل دونوں اعتبار سے کتابِ الٰہی سے وابستہ ہو۔ اکیڈمی کے مطابق حقیقی سرمایہ کاری بچپن سے شروع ہوتی ہے اور اس عمل میں خاندان سب سے اہم اور بنیادی شراکت دار ہوتا ہے۔/

 

4360749

نظرات بینندگان
captcha