ایکنا نیوز کے نامہ نگار کے مطابق، وزارتِ داخلہ کے سیکیورٹی و انتظامی امور کے نائب وزیر اور ایران کے شہید رہبر کی تشییع و وداع کی قومی کمیٹی کے سیکریٹری علیاکبر پورجمشیدیان نے منگل کو وزارتِ داخلہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انقلابِ اسلامی کے شہداء، بالخصوص 12 روزہ جنگ اور صہیونی۔امریکی جارحیت میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہوں اور ان کے مقدس مقام کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اسی طرح امتِ اسلامی کے شہید رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کے بلند مرتبہ مقام کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں اور اس نشست میں میڈیا نمائندگان کی شرکت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے شہید رہبر کی تشییع و الوداع کی تقریب کی تاریخی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب بلا شبہ ایک عظیم اور تاریخی واقعہ ہے۔ امید ہے کہ ملکی ذرائع ابلاغ اس اہم واقعے کی درست اور مؤثر انداز میں عکاسی اور دستاویز سازی کریں گے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک دائمی تاریخی ریکارڈ محفوظ رہے۔
پورجمشیدیان نے تقریب کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ دنوں ملک اور حکومت کو درپیش حالات کے باعث اس قومی و عالمی اہمیت کے حامل پروگرام کی تیاری میں کچھ وقت درکار تھا، تاہم شہید رہبر کے بیت اور انقلاب کے نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق یہ تقریبات آئندہ دنوں میں منعقد کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تقریبات متعدد مقامات پر منعقد ہوں گی جن میں صوبہ تہران، صوبہ قم، صوبہ خراسان رضوی، شہر مشہد اور عراق شامل ہیں۔
شہید رہبر ایران کی شاندار تشییع و وداع کے اہداف بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کا ایک اہم مقصد شہید رہبر کو شایانِ شان انداز میں رخصت کرنا اور اسلامی جمہوریہ کی طاقت و اقتدار کا مظاہرہ کرنا ہے۔
پورجمشیدیان نے مزید کہا کہ اس تقریب کا ایک اور اہم مقصد امتِ اسلامی اور ملتِ ایران کی جانب سے انقلابِ اسلامی کے نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کے ساتھ تجدیدِ بیعت کرنا ہے۔ یہ تقریب ملتِ ایران اور امتِ مسلمہ کی جانب سے نئے رہبر کے ساتھ عہد و وفاداری کی تجدید کی علامت ہوگی۔
انہوں نے عراق میں منعقد ہونے والے پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تقریبات کا ایک اہم محور شہید رہبر کی دینی مرجعیت کا مقام بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الوداعی تقریبات کے اہم پہلوؤں میں نمازِ جنازہ، تشییعِ جنازہ اور مختلف سطحوں پر غیر ملکی مہمانوں کی شرکت شامل ہے۔ اب تک اسلامی، غیر اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے متعدد سربراہان نے ان تقریبات میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے۔
پورجمشیدیان نے مزید بتایا کہ اس وقت تک 30 سے زائد ممالک نے اپنے اعلیٰ سطحی وفود اور حکام کی شرکت کے لیے باضابطہ درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
انہوں نے عالمی مذہبی اور علمی شخصیات کی بھرپور دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ادیان و مذاہب کے مذہبی رہنما، علماء، دانشور اور ممتاز شخصیات بھی ان تقریبات میں شرکت کی خواہش رکھتی ہیں۔ بین الاقوامی امور کمیٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 90 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
نائب وزیر داخلہ نے کہا کہ دیگر ممالک کے عوامی وفود، خصوصاً عراق، پاکستان، افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی درخواست دی ہے اور بین الاقوامی امور کمیٹی ان کی وسیع شرکت کے انتظامات کر رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ کو تہران میں سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکام، مختلف ادیان و مذاہب کے رہنماؤں اور مختلف ممالک کے دانشوروں کے لیے خصوصی تقریبِ تعزیت و خراجِ عقیدت منعقد کی جائے گی۔
پورجمشیدیان نے عوامی پروگراموں کے بارے میں بتایا کہ عوامی الوداعی تقریبات ہفتہ 13 تیر کی صبح تہران میں شروع ہوں گی اور صبح تقریباً 6 بجے حضرت امام خمینیؒ کی مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے تاکہ لوگ شہید رہبر اور ان کے اہلِ خانہ کے جسدِ مطہر کو الوداع کہنے کے لیے شریک ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقدس شہر قم میں شہید رہبر کے جسدِ مطہر کی نمازِ جنازہ اور تشییع کا انعقاد ہوگا۔
ان کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت نمازِ جنازہ مسجدِ مقدس جمکران میں ادا کی جائے گی۔
قومی کمیٹی کے سیکریٹری نے کہا کہ عراق میں جسدِ مطہر کے استقبال کی سرکاری تقریب اس ملک کے وزیر اعظم کی موجودگی میں منعقد ہوگی، جس کے بعد کربلا اور نجف اشرف میں حضرت امیرالمؤمنین امام علیؑ کے روضۂ اقدس کے جوار میں طواف اور تشییع کی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
پورجمشیدیان نے کہا کہ منصوبے کے مطابق چھ جولائی کو شہید رہبر اور ان کے معزز اہلِ خانہ کی تشییع مقدس شہر مشہد میں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس کے جوار میں انجام پائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک کے متعدد دستاویزی فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے بھی ان تقریبات کی کوریج کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے اور اب تک 300 سے زائد افراد ضروری انتظامات مکمل کر چکے ہیں۔/
4361186