تعلیمات قرآن کے فروغ کے لیے کینیا خواتین کی کاوش

IQNA

تعلیمات قرآن کے فروغ کے لیے کینیا خواتین کی کاوش

7:19 - July 02, 2026
خبر کا کوڈ: 3520391
ایکنا: کینیا کے شمال مشرقی علاقے میں مسلمان خواتین کے ایک گروپ نے ایک کامیاب اور منفرد اقدام کے ذریعے رضاکارانہ خدمت کو ایک جامع ترقیاتی منصوبے میں تبدیل کر دیا ہے۔

ایکنا نیوز-  ویب سائٹ Muslims Around the World کے مطابق ایسے معاشروں میں جہاں معاشی اور سماجی چیلنجز بڑھتے جا رہے ہیں، مقامی سطح کے اقدامات اس وقت تبدیلی کی سب سے مؤثر قوت بن جاتے ہیں جب وہ عوامی ضروریات سے جنم لیں اور ان کی مذہبی و ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ ہوں۔ ان اقدامات کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب وہ معاشی ترقی اور سماجی خدمات کو ایک ہی فریم ورک میں سمو کر روایتی خیرات سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار اور عملی حل فراہم کریں۔

کینیا کے شمال مشرقی علاقوں میں، جہاں مسلمان مقامی آبادی کا بڑا حصہ ہیں، خواتین نے ایک ایسا مثالی منصوبہ شروع کیا ہے جس نے رضاکارانہ سرگرمیوں کو کامیابی کے ساتھ ایک جامع ترقیاتی پروگرام میں بدل دیا ہے۔ یہ منصوبہ خواتین کی معاشی خودمختاری، قرآنِ کریم کی خدمت اور سماجی ہم آہنگی کو یکجا کرتا ہے اور حمایت و تقلید کے قابل ایک نمونہ بن چکا ہے۔

منصوبے کی سرکاری سطح پر حمایت

دارالحکومت نیروبی میں کینیا کے وزیرِ صحت Aden Duale نے "مستقبل کی سلائی اور کتابِ خدا کی خدمت" کے عنوان سے جاری منصوبے کی حمایت کے لیے فنڈ ریزنگ تقریب کی صدارت کی۔ یہ خواتین کا منصوبہ شمال مشرقی کینیا کے سرحدی ضلع ماندیرا سے شروع ہوا، جو صومالیہ اور ایتھوپیا کی سرحد کے قریب واقع ہے، اور اس کا مقصد معاشی خودکفالت، قرآنِ کریم کی خدمت اور سماجی فلاح کو یکجا کرنا ہے۔

یہ حمایت ان مقامی منصوبوں کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے جنہوں نے معاشی، مذہبی اور انسانی سطح پر دیرپا اثرات رکھنے والے ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے معاشرتی مسائل کے عملی حل پیش کرنے کی صلاحیت ثابت کی ہے۔

اس منصوبے کے تحت لڑکیوں اور خواتین کو سلائی کڑھائی کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ مستقل ذریعہ معاش حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ قرآنِ کریم کے بوسیدہ اور خراب نسخوں کی مرمت اور ان کی جگہ نئے نسخوں کی فراہمی کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ مرحومین کے لیے کفن بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ منصوبہ معاشی خودمختاری، قرآنِ کریم کی خدمت اور انسانی وقار کے تحفظ کو اسلامی تعلیمات کے مطابق یکجا کرتا ہے۔

کینیا کے وزیرِ صحت نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بیک وقت روحانی، سماجی اور معاشی ضروریات کو پورا کرتا ہے، اسلامی اقدار کو فروغ دیتا ہے اور خواتین کے لیے اپنی برادریوں کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔

یہ منصوبہ 2013 میں شروع کیا گیا تھا اور اب تک اس سے 155 فعال خواتین وابستہ ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ کینیا میں تقریباً 60 لاکھ مسلمان آباد ہیں، جو ملک کی تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ آبادی کا لگ بھگ 11 فیصد بنتے ہیں۔/

 

4361287

نظرات بینندگان
captcha