ایکنا نیوز- اسلامی ریڈیو و ٹیلی ویژن یونین کے مطابق دوگین نے ایرانی قوم سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک آرتھوڈوکس عیسائی ہونے کے ناطے، جو برسوں سے شیعہ روایت اور ایرانی اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں، شہادت کو صرف ایک المیہ نہیں بلکہ حقانیت کی گواہی سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول کلیسا کی بنیاد بھی شہداء کے خون پر قائم ہوئی ہے اور شہادت ایک ایسا الٰہی معجزہ ہے جو انسان کے وجود میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہداء، جن میں آیت اللہ خامنہ ای بھی شامل ہیں، محض قربانی دینے والے افراد نہیں بلکہ سچائی کے حقیقی گواہ ہیں جو اپنی ایثار و فداکاری کے ذریعے امام مہدیؑ کے ظہور کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ موت بے مقصد نہیں بلکہ مستقبل کی تاریخ اور تہذیب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور ایرانی ثقافت اس حقیقت کو دوسروں سے بہتر سمجھتی ہے۔
ولایتِ فقیہ اور شہید رہبر کا فکری ورثہ
دوگین نے کہا کہ ایران کے سیاسی نظام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے رأس میں ایک ایسی روحانی شخصیت موجود ہوتی ہے جو صرف خدا کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔ ان کے بقول آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف ایک ممتاز سیاسی اور فکری رہنما تھے بلکہ وہ اس روحانی اصول کی عملی تجسیم تھے جو اسلامی نظام کو معنویت عطا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی شہادت نے ابدیت کی طرف ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے، جو ایرانی قدیم روایت کے نورانی عالم "مینوگ" کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ دوگین کے مطابق یہ واقعہ مستقبل میں بڑے تغیرات کا سبب بنے گا اور ایران اپنی محدود جغرافیائی وسعت کے باوجود استقامت کے ساتھ عالمی طاقتوں کے مقابل کھڑا رہے گا۔
ایران پر حملوں کے بارے میں دوگین کا مؤقف
روسی فلسفی نے حالیہ حملوں کے حوالے سے کہا کہ بچوں اور عام شہریوں کے قتل میں کوئی سیاسی یا عسکری منطق نہیں پائی جاتی۔ انہوں نے مغربی جدید تہذیب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس آج مزاحمت کے دو اہم مراکز کے طور پر اس فکر کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔
دوگین کے مطابق یہ صرف ایک سیاسی کشمکش نہیں بلکہ خیر و شر کے درمیان ایک وسیع تر جدوجہد ہے، اور بالآخر کامیابی ان لوگوں کی ہوگی جو حق اور عدل کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ایرانی عوام کی قومی یکجہتی
انہوں نے ایران کے عوام کی قومی وحدت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج دنیا ایک ایسا منظر دیکھ رہی ہے جہاں مختلف فکری، ثقافتی اور سیاسی رجحانات رکھنے والے ایرانی اپنے وطن کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔ ان کے مطابق یہ جذبۂ ایثار ایران کی معنوی قوت اور استحکام کا مظہر ہے۔
دوگین نے بعض اسلامی ممالک کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ امتِ مسلمہ کو باہمی اتحاد اور مشترکہ اہداف کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایرانی قوم کے نام پیغام
اپنے پیغام کے اختتام پر الکساندر دوگین نے کہا: ہم روس کے عوام ایرانی قوم کی استقامت اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ متحد رہیں، ثابت قدم رہیں اور اپنے اصولوں پر قائم رہیں، کیونکہ شہداء کی قربانیاں حق اور سچائی کی دائمی گواہی ہیں۔
.
4361788