ایکنا نیوز کے مطابق، ہفتہ کی صبح سے ہی مصلیٰ امام خمینیؒ میں عاشقانِ انقلاب اور عزاداروں کا ایک عظیم اور تاریخی اجتماع دیکھنے میں آیا۔ ہزاروں افراد گزشتہ رات ہی مصلیٰ پہنچ چکے تھے تاکہ رہبرِ شہید کے جسدِ اطہر کی زیارت اور وداع کی سعادت حاصل کر سکیں۔
شرکاء رہبرِ شہید کے جسدِ مبارک کی آمد کے منتظر رہے۔ اس مقصد کے لیے تیار کیے گئے مرکزی اسٹیج کو قرآنِ کریم کی اس آیت سے مزین کیا گیا تھا: «قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ» (سورۂ سبأ، آیت 46)

تقریب کے دوران قرآنِ کریم کی تلاوت، مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ ملک بھر سے تعلق رکھنے والے مختلف طبقات کے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ صبح 7:30 بجے اسلامی جمہوریہ ایران کا قومی ترانہ بھی حاضرین کی اجتماعی ہم آہنگی کے ساتھ نشر کیا گیا۔
فضا غم و حزن سے بوجھل تھی، لیکن اس غم کے پس منظر میں عزم و استقامت کی ایک نئی داستان رقم ہوتی دکھائی دی۔ تقریب کا مرکزی نعرہ "باید برخاست" (قیام کرنا ہوگا) قرار دیا گیا، جو پورے اجتماع میں ایک ولولہ انگیز پیغام کے طور پر گونجتا رہا۔

اس موقع پر ’’بندھی ہوئی مٹھی‘‘ کو اس تاریخی وداع کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، جو استقامت، مزاحمت اور حق کے دفاع کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
مصلیٰ میں موجود عوام کا جمِ غفیر ہر لمحہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اشکبار آنکھیں، بلند ہوتے ہاتھ، درود و سلام کی صدائیں اور قرآنِ کریم کی تلاوتیں ایک روحانی منظر پیش کر رہی تھیں۔ شرکاء اس حقیقت کو یاد کر رہے تھے کہ رہبرِ شہید اپنی پوری زندگی قرآن سے گہری وابستگی اور انس رکھتے تھے۔

عوامی مداحی اور نوحہ خوانی نے بھی ماحول کو مزید رقت آمیز بنا دیا۔ ’’یا حسینؑ‘‘ اور ’’یا زینبؑ‘‘ کی صدائیں عزاداروں کے گریہ و زاری کے ساتھ فضا میں گونجتی رہیں۔ محرم الحرام کے ایام میں ہونے والی یہ وداعی تقریب حاضرین کو واقعۂ کربلا اور خون کی حق پرستی کی یاد دلاتی رہی۔
مقررین اور شرکاء کے مطابق یہ اجتماع صرف ایک الوداعی تقریب نہیں بلکہ حق، استقلال اور مزاحمت کے راستے پر تجدیدِ عہد کا اعلان ہے۔ تقریب میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ رہبرِ شہید کی جدوجہد اور ان کے افکار آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔
تقریب کے دوران رہبرِ شہید کی قرآنی تعلیمات سے وابستگی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی قاری یونس شاہ مرادی نے قرآنِ کریم کی تلاوت کی۔
.

شدید گرمی کے باوجود شرکاء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور مختلف علاقوں سے آنے والے عزادار مصلیٰ میں پہنچتے رہے۔ تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت پاکستانی زائرین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد کی شرکت بھی تھی، جنہوں نے رہبرِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
رہبرِ شہید کے جسدِ مبارک کے ساتھ عوامی وداع کا یہ سلسلہ اتوار 14 تیر کی رات 8 بجے تک جاری رہے گا، جبکہ اتوار کی صبح نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ اس کے بعد پیر 15 تیر کو تہران میں رہبرِ شہید اور ان کے اہلِ خانہ کی عظیم الشان تشییعِ جنازہ منعقد ہوگی۔/
4361680