«زندگی با قرآن» رهبر شهید کا امت اسلامی سے اہم ترین مطالبہ

IQNA

ادارہ تبلیغات اسلامی سربراہ

«زندگی با قرآن» رهبر شهید کا امت اسلامی سے اہم ترین مطالبہ

8:10 - July 08, 2026
خبر کا کوڈ: 3520422
ایکنا: حجت الاسلام والمسلمین محمد قمی کا کہنا تھا کہ شہید رہبرِ انقلاب کی سب سے بڑی فکر "قرآن کے ساتھ زندگی" تھی۔

ایکنا نیوز- حجت الاسلام والمسلمین محمد قمی نے کہا ہے کہ شہید رہبرِ انقلاب کی بنیادی فکر "قرآن کے ساتھ زندگی گزارنا" تھی۔ ان کے نزدیک قرآن کی تلاوت، حفظ اور تدبر خود مقصد نہیں تھے، بلکہ یہ سب ایک ایسے قرآنی طرزِ زندگی کے قیام کا ذریعہ تھے جس میں قرآن کی تعلیمات فرد اور معاشرے کی عملی زندگی میں نافذ ہوں۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ شہید رہبرِ انقلاب کا نام ہمیشہ قرآنی محافل، قاریوں اور حافظوں کی سرپرستی، قرآنی نسل کی تربیت اور قرآن میں تدبر کے فروغ کے ساتھ وابستہ رہا، لیکن ان کی فکری جہت اس سے کہیں زیادہ وسیع تھی۔ ان کے نزدیک قرآن صرف تلاوت یا تعلیم کی کتاب نہیں بلکہ اسلامی حکمرانی کا منشور، معاشرے کی رہنمائی کا ضابطہ اور نئی اسلامی تہذیب کی بنیاد تھا۔

شہید رہبرِ انقلاب نے اپنی پوری زندگی میں عوام کے قرآن سے تعلق مضبوط کرنے، حفظ و قراءت کو فروغ دینے، تدبر اور قرآنی معارف کی گہری سمجھ پیدا کرنے اور قرآن کی تعلیمات کو معاشرے کے عمومی فکر و ثقافت کا حصہ بنانے پر زور دیا۔ تاہم ان تمام مطالبات کا اصل مقصد "قرآن کے ساتھ زندگی" کو عملی شکل دینا تھا تاکہ وحی کی تعلیمات انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جاری و ساری ہو جائیں۔

اپنے انٹرویو میں محمد قمی نے کہا کہ اگر شہید رہبرِ انقلاب کی قرآنی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو اسے کئی جہتوں میں دیکھنا ہوگا۔ پہلی جہت قاریوں، حافظوں، اساتذہ اور قرآنی کارکنوں سے ان کی گہری وابستگی ہے، جہاں وہ صرف ایک سرپرست نہیں بلکہ خود ایک ماہر، صاحبِ نظر اور قرآنی علوم کی باریکیوں سے واقف شخصیت تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبرِ انقلاب کی قرآنی شخصیت کی سب سے گہری جہت ان کی حکمرانی میں نمایاں ہوتی ہے۔ ان کے مطابق شہید رہبر کو "قرآنی رہبر" کہنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کی پوری فکری ساخت، مسائل کا تجزیہ، منصوبہ سازی اور فیصلہ سازی قرآنِ کریم کی تعلیمات پر استوار تھی۔

محمد قمی نے کہا کہ اسی بنیاد پر ان کی حکمرانی بھی ایک قرآنی حکمرانی تھی۔ وہ بارہا "قرآنی ذہن" کی اصطلاح استعمال کرتے تھے، یعنی ایسا قائد جو قرآن کی روشنی میں سوچے، تجزیہ کرے اور فیصلے کرے۔ ان کے نزدیک یہی ایک رہبر اور قرآن کے درمیان تعلق کی بلند ترین منزل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر شہید رہبرِ انقلاب کی تمام قرآنی خواہشات کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ یہی ہے کہ "قرآن کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔"

آخر میں محمد قمی نے کہا کہ ایسا معاشرہ قائم کرنا جہاں قرآن لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے، شہید رہبرِ انقلاب کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا اور تمام قرآنی کارکنوں کو اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ "زندگی با آیہ‌ها" (آیات کے ساتھ زندگی) منصوبہ، شہید رہبرِ انقلاب کی اسی فکر کو عملی جامہ پہنانے کی ایک کوشش ہے۔

 

4362502

نظرات بینندگان
captcha