ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز کی رپورٹ کے حوالے سے مصر، سعودی عرب، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ پر صہیونی حکومت کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں، انتہا پسند اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ان خلاف ورزیوں سے باز رہنے کا پابند بنائے۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی شناخت اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیل کو شہرِ القدس اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی حاکمیت حاصل نہیں۔ مزید یہ کہ حرمِ قدسی شریف کا پورا احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بیت المقدس کے قدیم شہر اور اس کے مقدس مذہبی مقامات تک رسائی پر فلسطینیوں کے لیے عائد امتیازی اور من مانے پابندیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ القدس یا اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر کوئی حاکمیت حاصل نہیں۔
بیان میں اسرائیل، بطور قابض قوت، سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطینیوں کی قدیم شہرِ القدس تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی سے روکنے سے باز رہے۔
آخر میں آٹھوں عرب اور اسلامی ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح اور مؤثر مؤقف اختیار کرے، اسرائیل کو مقدس مقامات کی بے حرمتی اور خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے اقدامات کرے، اور اسے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی پابندی پر مجبور بنائے۔
4365795