ورلڈ کپ 2026 کے دوران اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز مہم میں اضافے پر الازہر کا اظہارِ تشویش

IQNA

ورلڈ کپ 2026 کے دوران اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز مہم میں اضافے پر الازہر کا اظہارِ تشویش

5:18 - July 25, 2026
خبر کا کوڈ: 3520496
1
ایکنا: جامعہ الازہر کے اسلام فوبیا نگران تنظیم نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑے کھیلوں کے مقابلوں کو نسل پرستی اور مذہبی تعصب پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایکنا نیوز- النبأ کی رپورٹ کے حوالے سے الازہر کے اس ادارے نے کہا کہ بڑے کھیلوں کے ایونٹس کے دوران امتیازی اور نسل پرستانہ بیانات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ ادارے نے زور دیا کہ سوشل میڈیا کا نفرت انگیزی اور دوسروں کے خلاف اشتعال انگیزی کے لیے استعمال بقائے باہمی اور کثرتِ رائے کی اقدار کے لیے خطرہ ہے، اور اس سے کھیل، جو قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، اختلافات کو ہوا دینے کا سبب بن جاتا ہے۔

اس موضوع پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں ادارے نے کہا کہ اس رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سماجی اداروں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے تاکہ ایک ذمہ دارانہ بیانیہ فروغ دیا جا سکے اور کھیلوں کی تقریبات کو نسل یا مذہب کی بنیاد پر نفرت اور امتیاز پھیلانے کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔

رپورٹ میں اسپین کی وزارتِ سماجی تحفظ و ہجرت کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے رصد گاہ برائے نسل پرستی اور بیگانہ خوف کی تحقیق کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز مواد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق صرف جون کے مہینے میں آن لائن نفرت انگیزی کے 40 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں کھیلوں سے متعلق مواد کا حصہ 16 فیصد رہا، جو امن و امان سے متعلق موضوعات (69 فیصد) کے بعد نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کا دوسرا بڑا سبب تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق، نگرانی کیے گئے کل نفرت انگیز مواد میں 88 فیصد شمالی افریقی نژاد افراد کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ 11 فیصد مواد مسلمانوں کے خلاف اور 7 فیصد افریقی نژاد افراد کے خلاف توہین آمیز تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نسل پرستانہ زبان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 48 فیصد پیغامات میں غیر انسانی اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے، 32 فیصد پوسٹس میں مخصوص گروہوں کو معاشرے کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، جبکہ 10 فیصد مواد میں غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا کھلے عام مطالبہ کیا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ردِعمل کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ رپورٹ کیے گئے 61 فیصد نفرت انگیز مواد کو حذف کر دیا گیا۔ اس ضمن میں ٹک ٹاک نے 98 فیصد کے ساتھ سب سے مؤثر ردِعمل دیا، اس کے بعد ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے 93 فیصد، فیس بک نے 62 فیصد اور انسٹاگرام نے 32 فیصد مواد ہٹایا، جبکہ یوٹیوب نے صرف 8 فیصد مواد حذف کیا، جو سب سے کم شرح رہی۔

الازہر کے دیدہ بان برائے انسدادِ انتہاپسندی نے اس بات پر زور دیا کہ آن لائن نفرت انگیزی کے مؤثر تدارک کے لیے نگرانی اور رپورٹنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا اور ثقافتی و مذہبی تنوع کے احترام کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا ضروری ہے، تاکہ کھیلوں کی حقیقی روح برقرار رہے اور مختلف قوموں اور مذاہب کے درمیان بقائے باہمی اور باہمی احترام کو فروغ مل سکے۔

 

4365595

نظرات بینندگان
captcha