ایکنا نیوز- Khamenei.ir نیوز کے مطابق انگریزی سیکشن سے گفتگو کرتے ہوئے کینیا کے سیاسی کارکن بوکر نگسا اومولے نے کہا کہ شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مظلوم اور محروم طبقات کے حقیقی رہنما تھے۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہنما کی جانب سے فروغ دیا جانے والا سامراج مخالف اور استعماری غلبے کے خلاف مزاحمتی فکر آئندہ بھی علمی اور فکری حلقوں میں زندہ رہے گی۔
اومولے نے شہید رہنما کے "دینی جمہوریت" اور مغربی لبرل جمہوریت کے بارے میں نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی تشریح صرف طاقتور ممالک کے بیانیے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے بقول دنیا کی کمزور اور پسماندہ اقوام کے پاس بھی ایسے قیمتی اور مؤثر تصورات موجود ہیں جو عالمی سطح پر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کو صرف ایران یا عالم اسلام کا رہنما نہیں سمجھتے بلکہ انہیں دنیا بھر کے مستضعفین، خصوصاً عالمی جنوب کی اقوام کا ہیرو تصور کرتے ہیں۔
فلسطینی عوام کی مسلسل حمایت کا ذکر کرتے ہوئے اومولے نے کہا کہ شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای ہمیشہ مسئلۂ فلسطین کے سب سے ثابت قدم حامیوں میں شامل رہے اور انہوں نے اس مسئلے کی حقیقت کو واضح اور مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔
کینیا کے اس سیاسی کارکن نے بتایا کہ بچپن میں وہ اسلام کے بارے میں منفی پروپیگنڈے سے متاثر تھے، لیکن شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے افکار سے آشنائی کے بعد انہیں فلسطین پر قبضے کی حقیقت اور اس کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔
4365959