ایکنا: تحقیقاتی جدید سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کے ایک مسلمان امیدوار کے خلاف نفرت انگیز پوسٹس، ان کی پرائمری انتخابات میں کامیابی کے بعد 20 گنا بڑھ گئی ہیں۔
ایکنا نیوز- ٹی آر ٹی کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ مشی گن میں سینیٹ کے پرائمری انتخابات میں مسلمان ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کی کامیابی کے چند گھنٹوں بعد ہی ان کے نام سے متعلق اسلام مخالف پوسٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔
مرکز برائے مطالعاتِ منظم نفرت (CSOH) کی نئی تحقیق کے مطابق، عبدالسید کو اسلام مخالف توہین آمیز الفاظ کے ذریعے نشانہ بنانے والی پوسٹس کی تعداد ان کی کامیابی کے بعد والے ہفتے میں اوسطاً 3 ہزار 99 پوسٹس روزانہ رہی، جبکہ انتخابات سے قبل دو ماہ کے دوران یہ اوسط 155 پوسٹس روزانہ تھی۔ یوں ان پوسٹس میں 1895 فیصد اضافہ ہوا۔
5 اگست کو، جس روز عبدالسید کے حریف نے اپنی شکست تسلیم کی، ان کے خلاف اسلام مخالف پوسٹس کی تعداد عروج پر پہنچ گئی اور ایک ہی دن میں تقریباً 7 ہزار پوسٹس ریکارڈ کی گئیں۔
اسی ہفتے عبدالسید کے بارے میں شائع ہونے والا اسلامو فوبک مواد گزشتہ سات ماہ کے مجموعی مواد سے بھی زیادہ تھا۔
یہ تعداد جنوری سے اب تک عبدالسید کے بارے میں ریکارڈ کی جانے والی مجموعی 38 ہزار 280 پوسٹس کا 56.7 فیصد بنتی ہے۔
عبدالسید مشی گن کے سابق محکمہ صحت کے عہدیدار ہیں اور امریکی سینیٹ میں گیری پیٹرز کی خالی ہونے والی نشست کے لیے امیدوار ہیں۔
CSOH نے ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ریڈٹ اور بلواسکائی پر شائع ہونے والی پوسٹس کا تجزیہ کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ مواد حقیقی سیاسی تنقید کے بجائے چند مخصوص دقیانوسی تصورات اور بار بار دہرائے جانے والے سازشی بیانیوں کے گرد گھومتا ہے۔
سب سے زیادہ دہرائے جانے والے دعووں میں عبدالسید کو حماس، حزب اللہ اور اخوان المسلمون سے جوڑنا شامل تھا۔ بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی بعض پوسٹس میں انہیں ’’جہادی‘‘ بھی قرار دیا گیا۔
بعض دیگر پوسٹس میں ان پر شریعت کے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ متعدد پوسٹس میں اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مغربی ممالک سے تمام مسلمانوں کو مکمل طور پر بے دخل کرنے کو واحد حل قرار دیا گیا۔
مجموعی طور پر 5 اگست کو ایکس پر اسلام مخالف پوسٹس کی تعداد موسم گرما میں ایک دن کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور تقریباً 12 ہزار پوسٹس ریکارڈ ہوئیں۔ یہ تعداد گزشتہ 30 دن کی اوسط سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی اور یہ پہلا دن تھا جب ایسی پوسٹس کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ محققین کے مطابق یہ اضافہ چھ دن بعد بھی ختم نہیں ہوا تھا۔
عوامی سطح پر اسلام مخالف پوسٹس کی تعداد پرائمری انتخابات سے قبل کی سطح کے مقابلے میں اب بھی 59 فیصد زیادہ تھی، جبکہ خاص طور پر عبدالسید کو نشانہ بنانے والی توہین آمیز پوسٹس موسم گرما کے آغاز کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ تھیں۔
CSOH نے آن لائن سرگرمیوں میں اس اضافے کو ایک وسیع تر اور منظم کوشش کا حصہ قرار دیا ہے۔ محققین کے مطابق اس مہم میں ’’عظیم متبادل‘‘ (Great Replacement) نظریے سے اخذ کیے گئے تصورات کو بنیاد بنایا گیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ جیسے واقعات اور سیاسی عہدوں کے لیے مسلمان امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اس میں شدت آئی ہے۔
مشی گن میں عبدالسید کی کامیابی امریکی پرائمری انتخابات کے حالیہ مرحلے کے کئی اہم نتائج میں سے ایک تھی، جو آئندہ سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے عمل کا حصہ ہے۔
تاہم، محققین کے مطابق عبدالسید کی کامیابی کے بعد سامنے آنے والا ردعمل اب کسی ایک امیدوار کے خلاف محض ردعمل کم اور ایک ایسے دہرائے جانے والے منظم طرزِعمل سے زیادہ مشابہ دکھائی دیتا ہے جو کسی مسلمان سیاست دان کے انتخابات جیتنے یا کسی عہدے پر فائز ہونے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
CSOH نے اعلان کیا ہے کہ اسے توقع ہے کہ 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے لیے انتخابی مہم میں تیزی آنے کے ساتھ اسلام مخالف تعصب اور نفرت انگیزی میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔/
4369388