ایکنا: بیرونِ ملک مقیم تیونسی شہریوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے قرآن کریم کی بے حرمتی کی مخالفت کا اعلان کیا اور ایسے اقدامات کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کا باعث قرار دیا۔
ایکنا نیوز- اردن کی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ تونس نے مظاہرے کے حق اور آزادیِ اظہار کے بہانے قرآن کریم کی بے حرمتی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ایسے واقعات کو انتہائی گھناؤنے اقدامات قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ، ہجرت اور بیرونِ ملک مقیم تیونسی شہریوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تونس نے دنیا کے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مقدسات کا احترام کریں تاکہ ایسے جرائم کے دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے، جو بقائے باہمی اور رواداری کی اقدار سے متصادم ہیں۔
بیان میں کہا گیا: " ایک بار پھر مظاہرے کے حق کے نام پر اور آزادیِ اظہار کے بہانے قرآن کریم کی بے حرمتی کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو کھلے عام مجروح اور اشتعال دلانے کا اقدام کیا گیا ہے۔
تونس کی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ یہ گھناؤنا جرم، جو منظم انداز میں بار بار دہرایا جا رہا ہے، صرف انتہاپسندی اور دہشت گردی کو ہوا دیتا ہے۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے اور اس کے پسِ پردہ عناصر مذہبی گروہوں کے درمیان تنازعات کو بھڑکانے اور انتہاپسند تحریکوں کی حمایت کے درپے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا: یہ امر حیران کن ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے یہ جرائم ایک ہی ذریعے اور مشترکہ سیاسی مقاصد سے جنم لیتے ہیں، تاکہ معاشروں کے امن و استحکام اور اقوام اور ممالک کے درمیان ضروری باہمی احترام کو کمزور کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ جمعہ کی صبح (14 اگست) کو سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی جامع مسجد کے بیرونی احاطے میں ایک مرتبہ پھر قرآن کریم کے ایک نسخے کی بے حرمتی کی گئی۔ دسمبر 2025 سے اب تک یہ اس نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔
اسٹاک ہوم جامع مسجد کے امام و منتظم محمود الخلفی نے اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ساتھ تصویر بھی شائع کی، جس میں قرآن کریم کا ایک نسخہ دکھایا گیا تھا۔ اس کے سرورق میں سوراخ کیے گئے تھے اور اسے زنجیر اور تالے کے ذریعے مسجد کے باہر ایک باڑ سے لٹکایا گیا تھا۔
الخلفی نے سویڈن کے حکام اور عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف اختیار کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات کا مقابلہ کرنا صرف مسلمانوں کے دفاع کا معاملہ نہیں، بلکہ بقائے باہمی، باہمی احترام اور انسانی اقدار کا تحفظ بھی ہے، اور یہ نسل پرستی، اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت کو مسترد کرنے کا اظہار ہے۔/
4370033