حافظانِ قرآن کا اطلاعاتی نظام قائم کیا جائے گا

IQNA

8:15 - August 18, 2026
خبر کا کوڈ: 3520601
حفظ قرآن کریم قومی کمیٹی:

حافظانِ قرآن کا اطلاعاتی نظام قائم کیا جائے گا

ایکنا: محمدمہدی بحرالعلوم کے مطابق ۱۰ ملین حفاظِ قرآن کی تربیت کا ہدف مقررکرنا، قومی شناختی کوڈ کی بنیاد پر حفاظ کے معلوماتی ریکارڈ کو منظم کرنا اور قومی دستاویزِ حفظِ قرآن کے ۱۱۵ اقدامات کی ازسرِنو تعریف سال ۱۴۰۵ میں اس ادارے کے پروگراموں کا حصہ ہوں گے۔

1

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق حفظ قرآن کی رھبری کمیٹی کے سیکرٹری محمدمہدی بحرالعلوم نے ’’ستاد کی ایک سالہ کارکردگی اور آئندہ کے پروگراموں کی وضاحت‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پریس کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی شرکت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس نشست میں مختلف قرآنی اداروں کے نمائندوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس اجلاس کے انعقاد کا ایک اہم مقصد مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والی اس ٹیم کا تعارف کرانا ہے جو حفظِ قرآن کریم کے شعبے میں باہمی ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ اس ستاد کی پہلی پریس کانفرنس بھی گزشتہ سال ماہِ آذر میں منعقد ہوئی تھی اور آج ہم گزشتہ سرگرمیوں اور آئندہ کے پروگراموں کی پیش رفت کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بحرالعلوم نے مزید کہا: قومی ستادِ رہبریِ حفظِ قرآن کریم کی اہم ترین افادیت میں سے ایک ملک کے مختلف قرآنی اور ثقافتی اداروں کے درمیان حفظِ قرآن کے شعبے میں ہم آہنگی اور باہمی تعاون پیدا کرنا ہے۔ مختلف اداروں میں سے ہر ایک کی اپنی مخصوص صلاحیتیں اور ذمہ داریاں ہیں اور ستاد کی کوشش ہے کہ ان صلاحیتوں کو ایک مشترکہ اور ہدف پر مبنی راستے پر گامزن کیا جائے۔

ساتویں ترقیاتی منصوبے پر عملدرآمد؛ ستاد کی پہلی ترجیح

قومی رہبریِ حفظِ قرآن کریم کمیٹی کے سیکرٹری نے سال ۱۴۰۵ کے لیے اس ستاد کی چھ پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہماری اہم ترین پالیسیوں میں سے ایک ساتویں ترقیاتی منصوبے میں مقرر کردہ اہداف کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اس منصوبے میں حفظِ قرآن کریم کے شعبے کے لیے دو واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں؛ پہلا ایک کروڑ افراد کو حفظِ قرآن کی تربیت دینا اور دوسرا حفظِ قرآن کریم کے مدارس قائم کرنا ہے۔

حفاظِ قرآن کی سماجی میدانوں میں موجودگی ضروری ہے

انکا کہنا تھا: ’’حفاظِ قرآن کا حقیقی معاشرے میں فعال کردار اور موجودگی، کو بھی کمیٹی کی اہم پالیسیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: حفظِ قرآن کو صرف کسی اعزاز کے حصول یا ذہنی طور پر قرآن محفوظ کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ حفاظِ قرآن کو معاشرے کے مختلف سماجی اور ثقافتی میدانوں میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔/

 

4370045

نظرات بینندگان
captcha