IQNA

14:13 - July 12, 2014
خبر کا کوڈ: 1428628
بین الاقوامی گروپ:ریسرچ میں سعودی عرب کے ریاستی ڈھانچے،اس کی افسر شاہی، اہم سرکاری عہدوں اور ریاست کے مجموعی مذھبی رجحان کے بارے میں کئے گئے انکشافات کو شامل کیا ہے

ایکنا نیوز-شفقنا-آل علی احمد انسٹی ٹیوٹ فار گلف سٹیٹس کے نامور محقق اور دانشور ہیں ،انھوں نے حال ہی میں ایک اور سماجی سائنس دان کرسٹوفر ڈینیوب کے ساتھ ملکر عراق اور سعودیہ عرب کے درمیان ایک تحقیقی تقابلی مطالعہ کیا جس کا مقصد یہ جانچ کرنا تھا کہ ان دونوں میں سے کون سی ریاست اور اس کا ڈھانچہ فرقہ پرستانہ ہے۔

آل علی احمد کی تحقیق کے مطابق سعودی عرب کا میڈیا ، تعلیم کا شعبہ اور نصابی کتب وہابی اسلام سے ہٹ کر کسی اور مسلک کے فہم اسلام کو مثبت انداز میں پیش نہیں کرتے اور صوفی اسلام سعودی عرب کے نزدیک سب سے بڑا دشمن ہے۔

آل علی احمد کے بقول جزیرۃ العرب کو ابن سعود نے 1932ء میں اپنے باپ کے نام پر سعودی عرب کا نام دیا اور یہ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ جزیرۃ العرب جس میں مکّہ و مدینہ جیسے مقدس شہر بھی شامل ہیں اس کو نجد کے ایک ڈاکو ،لیٹرے اورانگریز سامراج کے ایجنٹ کے نام پر سعودی عرب کا نام دے دیا گیا۔

سعودی عرب کا 1932ء سے سرکاری مذھب وہابیت ہے جبکہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا -جب تک عثمانیہ سلطنت کا حصّہ جزیرۃ العرب رہا اس وقت تک یہاں پر مذھبی اور فقہی اعتبار سے سنّی حنبلی و شوافع اکثریت میں تھے جبکہ حنفی اور مالکی بھی موجود تھے لیکن اول الذکر دو فقہی مسالک کے مقابلے میں کم تھے اور عقائد کے لحاظ سے جزیرۃ العرب کے لوگ امام ابوالحسن اشعری کے مکتبہ فکر سنّی اشاعرہ سے تعلق رکھتے تھے جبکہ اس زمانے میں یہ نجد تھا جہاں پر بدوی عربوں میں محمد بن عبدالوہاب نجدی اور قبیلہ آل سعود ملکر تلوار و بندوق کے زور پر اپنے عقائد کو زبردستی نافذ کررہے تھے

عبدالعزیز بن سعود نے سعودی عرب کے پہلے بادشاہ کی حثیت سے کام شروع کیا تو اس نے سعودی عرب کے حجازیوں کی اکثریت جوکہ 80 فیصد کے قریب تھی پر سلفی وہابی نجدی مسلک زبردستی تھوپنا شروع کردیا

اس نے تعلیم ،میڈیا اور مذھب کے اداروں کو سرکاری تحویل میں لیکر ان تینوں زرایع سے وہابیت کو مسلط کرنا شروع کردیا جبکہ غیر وہابی مسلمانوں پر ملازمتوں ، روزگار کے دروازے بند کردئے گئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے

علی آل احمد کے مطابق سعودیہ عرب کی جو وزراتی کونسل اور کابینہ ہے اس کے سب کے سب عہدے آل سعود کے پاس ہیں اور وہ سب کے سب وہابی ہیں۔

سربراہ ریاست ،وزیر اعظم،نائب وزیر اعظم،وزیر خارجہ،وزیر برائے سعودی نیشنل گارڑ،وزیر برائے دیہی امور،وزیر تیل ،وزیر ایجوکیشن ،وزیر برائے مذھبی امور، وزیر برائے انصاف ،وزیر داخلہ ،وزیر دفاع ،انٹیلی جنس چیف سب کے سب آل سعود سے تعلق رکھتے ہیں نسلی اعتبار سے نجدی اور مسلکی اعتبار سے وہابی ہیں

سعودی عرب کی بیوروکریسی بھی نسلی اور مذھبی اعتبار سے نجدی اور وہابی مسلک کے لوگوں کی اکثریت اور غلبے پر مشتمل ہے

ایک سعودی پروفیسر محمد بن سنتیان نے 2004ء میں سعودی اشراف کے نام سے ایک تحقیق کی جسے سنٹر فار عرب اسٹڈیز لبنان نے 2004ء میں شایع کیا

پروفیسر محمد کا کہنا ہے کہ سعودی بیوروکریسی نسلی اعتبار سے اور مسلکی اعتبار سے بھی انتہائی غیر متوازن اور غیرمنصفانہ ہے جس میں قطعی غلبہ اور اکثریت نسلی اعتبار سے نجدیوں اور مذھبی اعتبار سے وہابیوں کی ہے

پروفیسر محمد کہتے ہیں کہ سنئیر افسران سعودی افسر شاہی میں 70 فیصد نجد سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ حجازی 20 فیصد ،2 فی صد دیگر بدوی قبائل سے اور دیگر یعنی نجرانیوں وغیرہ میں سے 8 فیصد ہیں جبکہ یہ سب یعنی نجدی،حجازی ،بدوی قبائیلی اور دیگر سب کے سب وہابی ہیں اور ان میں کوئی صوفی سنّی مسلک سے تعلق نہیں رکھتا۔ سعودی افسران میں ایک بھی سنّی حنفی ،مالکی ،شافعی ،حنبلی افسر موجود نہیں ہیں۔

وزرات خارجہ ،وزرات دفاع ،وزرات داخلہ جن کے ماتحت انٹیلی جنس ایجنسیاں اور سیکورٹی فورسز ہیں میں بھی سب کے سب وہابی مسلک سے تعلق رکھنے والے اور زیادہ تر نجدی پس منظر رکھنے والے بھرتی کئے جاتے ہیں

سعودی عرب میں پرائمری سے لیکر ثانوی اور پھر ہائر ایجوکیشن تک وہابیت کے حق میں اور صوفی اسلام ودیگر مسالک کے خلاف نفرت انگیز نصاب پڑھایا جاتا ہے اور سعودی عرب کے باشندوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے

سعودی عرب میں جو مذھبی تعلیم کے ادارے ہیں یا جامعات میں شعبہ اسلامیات اور اس کے شعبے ہیں وہاں پر بس وہابی نکتہ نظر سے ہی تعلیم کی سہولت موجود ہے اس سے ہٹکر کوئی اور تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں ہے

پروفیسر محمد کے مطابق سعودی عرب کے 13 صوبے ہیں اور 13 صوبوں کے کسی ایک بھی شہر میں سوآئے وہابی مسلک کی مساجد اور مدارس کے کسی اور مسلک کی مساجد اور تعلیمی ادارے موجود نہیں ہیں اور اگر خفیہ طور پر بنالیں تو پتہ چلنے پر سیکورٹی فورسز کریک ڈاؤن کردیتی ہیں۔

سعودیہ عرب میں 13 صوبے ہیں اور ہر صوبے کا گورنر آل سعود نجدی سے ہے اور وہابی مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور اسی طرح 13 صوبوں کے شہروں کے مئیر بھی وہابی مسلک ہیں

سعودیہ عرب کے نزدیک صوفی اسلام یا جسے ہم عرف عام میں سنّی بریلوی اسلام کہتے ہیں سوائے شرک ،بدعت ،ضلالت کے سوا کچھ بھی نہیں اور اسی وجہ سے اس پر مکمل پابندی عائد ہے۔

پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد 70ء کی دھائی تک پنجاب ،جنوبی پنجاب ،بلوچستان ،خیبر پختون خوا میں ہزارہ ڈویژن ،اندرون سندھ اور کراچی میں ایک اندازے کے مطابق 85 فیصد سنّی بریلوی ،7 فیصد شیعہ ،6 فیصد دیوبندی  تھے لیکن پنجاب پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ان کے پاس اعداد و شمار کے مطابق جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع میں دیوبندی 33 فیصد ،بریلوی 50 سے 52 فیصد ،10 فیصد شیعہ اور 6 سے 7 فیصد وہابی مسلک کے لوگ ہیں ،اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں 80ء کی دھائی سے لیکر ابتک دیوبندی مکتبہ فکر 27 فیصد بریلویوں کو دیوبندی بنادیا ہے اور پنجاب پولیس کے ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ دیوبندی پنجاب میں 33 فیصد ہیں مگر ان کے مدارس کل مدارس دینیہ کا 50 سے 60 فیصد ہیں مطلب اب بھی ان کے مدارس ان کی آبادی کے تناسب سے 17 فیصد زائد ہیں جبکہ بریلوی مدارس 25 سے 30 فیصد ہیں یعنی وہ اپنی آبادی کے تناسب سے نصف کم مدارس رکھتے ہیں

وکی لیکس کے مطابق جنوبی پنجاب میں سعودیہ عرب اور یو اے ای سے دیوبندی اور وہابی مدارس کے لیے ایک ارب ڈالر سالانہ امداد آتی ہے اور یہ شدت پسند زھن پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے

سعودیہ عرب ، قطر ، کویت ،یو اے ای کے وہابی حکمران ،وہابی مالدار عرب شیوخ اور وہابی ملٹی نیشنل کمپنیاں برصغیر پاک و ہند میں عمومی طور پر اور پاکستان میں خصوصی طور پر صوفی اسلام کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کررہی ہیں اور یہ کام وہ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش میں دیوبندی مکتبہ فکر کے شدت پسندوں اور قدرے لو پروفائل میں اہلحدیث کے ساتھ ملکر کررہی ہیں۔

جبکہ سعودیہ عرب کی کوششوں سے جو سلفی دیوبندی وہابی نام نہاد جہادی پیدا ہوئے ہیں وہ صوفی اسلام کی ثقافتی علامتوں مزارات ،تبرکات اور آثار کو مٹارہے ہیں۔

عراق کی صورت حال ہمارے سامنے ہے جو وہابی دیوبندی خارجی تنظیم داعش /دول اسلامیہ کے حملوں کی وجہ سے عراقی عوام کا مقتل بن گیا ہے اور یہ داعش بھی سعودی عرب کی پھیلائی ہوئی وہابی آئیڈیالوجی کا نتیجہ ہے۔

 

ٹیگس: سعودی ، عرب ، فرقہ ، پرست
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: