حسين ترين نغمۂ انتظار-يوسف زهراء امام زمانه(عج)

IQNA

حسين ترين نغمۂ انتظار-يوسف زهراء امام زمانه(عج)

12:38 - September 07, 2006
خبر کا کوڈ: 1495962
ہمارا سلام ہو تجھ پر اےمہر و محبت سے سر شار باران رحمت۔ہمارا سلام ہو تجھ پر اے خوشبوئے حيات سے معطر شگوفہ ترين گل سر سبد ہستی۔ہمارا سلام ہو تجھ پر اے نور ازل سے منور بلند ترين ستارۂ آرزو۔ہمارا سلام ہو تجھ پر اے ساز وحدت پر چھیڑے گئے حسين ترين نغمۂ انتظار۔
ہمارا سلام ہو تجھ پر اےمہر و محبت سے سر شار باران رحمت۔ہمارا سلام ہو تجھ پر اے خوشبوئے حيات سے معطر شگوفہ ترين گل سر سبد ہستی۔ہمارا سلام ہو تجھ پر اے نور ازل سے منور بلند ترين ستارۂ آرزو۔ہمارا سلام ہو تجھ پر اے ساز وحدت پر چھیڑے گئے حسين ترين نغمۂ انتظار۔
سالہا سال اور برسہا برس سے ہم دنيا كی تاريكيوں میں غرق ہیں اور ايمان و يقين كی نگاہیں بچھائے تيرے ظہور كی چاپ كے منتظر ہیں۔تيری غيبت كا یہ دور آدميت و انسانيت كے قحط كا دور ہے۔دنيا نان و نان و نمك كی بھوك اور نام و نمود كی تشنگی میں مبتلا ہے۔
دنيا والے تعيش و تجملات كی اشياء كے عاشق ،مشينی رفتار سے پٹرياں بدلنے والے افكار و نظريات كے گرويدہ ہیں،زندگياں يكسانيت كی مريض اور شہوانيت كی اسير ہو چكی ہیں۔قدم روز بروز ناتواں،دل پتھر كی طرح سخت،آنكھیں آئينوں كی طرح بے حس آرزوئیں يتيم،فريادیں بانجھ اور آوازیں گونگی ہوتی جا رہی ہیں۔شب دن سے زيادہ بيدار اور محرومی ظلم و ستم سے زيادہ پائيدار ہو گئی ہیں۔لمحے سانسوں پر بھاری،صدائیں نيم مردہ،آنكھیں خوف زدہ،ديواریں نا امن اور گھر اجنبيوں كا اڈہ بن گيا ہے۔
عراق خون میں لت پت ہے،افغانستان كی ہڈياں چٹخ رہی ہیں اور فسطين ملبوں میں دفن ہو جانا چاہتا ہے،اور ارد گرد،كسی قبرستان كی مانند سناٹا چھايا ہوا ہے۔ايسے ماحول میں،تيرے ايران كی فريادیں،نعرے اور جہادو استقامت كی آوازیں طاغوتی طاقتیں گلے میں ہی گھونٹ دينا چاہتی ہیں۔
كون محروموں،مظلوموں اور بے بس و لاچار دينداروں كو سہارا دے۔تيرے سوا كون ہے،ہم كس كو آواز دیں،كيا اب بھی پردۂغيبت اٹھانے كی ساعت نہیں آئی ہے۔كيا اب بھی دنيا سے ظلم و ستم اور كشت و خونريزی كےخاتمے كا وقت نہیں آيا ہے۔كيا اب بھی عدل و انصاف كی برقراری كے متعلق وعدۂ الہی كے پورے ہونے كے خوشگوار لمحات نہیں آئے ہیں۔حكومت محمدی (ص) كی برقراری اور حكمت علوی (ع) كی پائيداری كے دن كب ديكھنے كو ملیں گے؟
فرزند زہرا(س) ! تيری حكومت تمام انبيا ء(ع) كی مشقتوں كا خواب اور تيری ولايت تمام ائمہ(ع) كی قربانيوں كے حساب كا دن ہے۔كيا كوئی ہاتھ ہے جو تيرے ظہور كا پرچم بلند كر نے كی آرزو نہ ركھتا ہو،كيا كوئی آنكھ ہے جو تيرے ظہور كا زمانہ ديكھنے كے لئے اشك فشاں نہ ہو،آيا كوئی دل ہے جس میں تيرے ظہور كے انتظار كی دھڑكنیں نہ اٹھتی ہوں،آيا كوئی سر ہے جس میں تيرے ظہور كے مشاہدہ كا سودہ نہ پايا جاتا ہو،آيا كوئی دن ہے جو تيرے شوق زيارت میں شام سے ہمكنار نہ ہوتا ہو،آيا كوئی رات ہے جو تيرے شوق ديدار میں طلوع آفتاب كی منتظر نہ رہتی ہو،آيا كوئی گلی ہے جہاں مہدی موعود كے (ع) انتظار كے قمقمے نہ جل رہے ہوں اور آيا كوئی گھر ہے جہاں عسكری (ع) كے مولود كا جشن چراغاں نہ برپا ہو؟
فرزند رسول (ص) امام محمد تقی علیہ السلام كی دختر گرامی،امام علی نقی علیہ السلام كی بہن حكيمہ خاتون بيان كرتی ہیں "ايك دن اپنے بھتيجے امام حسن عسكری كے گھر مہمان تھی،رخصت ہونے لگی تو امام علیہ السلام نے فرمايا،پھوپھی! آج كی رات آپ یہیں ميرے یہاں ٹھہریں،آج خدا كی آخری حجت كی ولادت ہونے والی ہے۔میں نے حيرت كے ساتھ عرض كی : مگر نرجس خاتون كے یہاں تو اس طرح كے آثار نظر نہیں آتے۔امام نے فرمايا : جی ہاں! خداوند عالم اپنی حجت دنيا میں بھيجنے كے لئے وقت ضرورت اسی طرح كا اہتمام كرتا ہے۔حضرت موسی (ع) كی ماں كے یہاں بھی آثار حمل نہیں تھے،فرعون كی تمام بندشوں كے با وجود حضرت موسی (ع) دنيا میں آئے اور فرعونيوں كو خبر بھی نہ ہو سكی،خدا نے دشمنان محمد و آل محمد علیہم السلام كےشر سے اپنی آخری حجت كی حفاظت كے لئے یہ اہتمام كيا ہے۔
جناب حكيمہ كہتی ہیں : میں امام كی فرمائش پر گھر میں رك گئی اور بے چينی سے اس مبارك و مسعودگھڑی كا انتظار كرتی رہی،نماز شب تمام كرچكی تھی ليكن ابھی تك حمل كے آثار ظاہر نہیں تھے۔دل میں اضطراب پيدا ہوا تو امام علیہ السلام كی آواز آئی : پھو پھی پريشان نہ ہوں جو كچھ میں نے كہا ہے اس كے ظہور كا وقت قريب آرہا ہے،تھوڑی دير بعد،نرجس خاتون بھی خواب سے بيدار ہوئیں وضو كيا،نماز شب ادا كی اور آكر بستر پر لیٹ گئیں كہنے لگیں پھوپھی مجھے كچھ درد كا احساس ہو رہا ہے،میں مسئلہ كی طرف متوجہ ہو گئی اور تسكين ديتے ہوئے كہا : بیٹی گھبرانے كی بات نہیں ہے خدا نے تم كو اپنی آخری حجت كی ماں بننے كا شرف عطا كيا ہے۔امام حسن عسكری علیہ السلام نے فرمايا : پھوپھی سورۂ "انا انزلنا ہ " كی تلاوت فرمائیے،میں نے سورۂ قدر پڑھنا شروع كی محسوس ہوا بطن مادر میں بچہ ميرے ساتھ تلاوت كر رہا ہے يكا يك ميرے اور نرجس كے درميان نور كا ايك پردہ حائل ہو گيا ۔میں نے امام علیہ السلام كو آواز دی،امام حسن عسكری (ع) نے پر سكون رہنے كی فرمائش كی۔پردہ چھٹا تو میں نے ديكھا زمين پر ايك چاند سا بچہ بارگاہ الہی میں سجدہ ريز ہے۔سجدے سے سر اٹھا كر بچے نے كلمۂ شہادتين زبان پر جاری كئے اور تمام ائمہ (ع) كی امامت كی گواہی كے بعد كہا : خدايا،اپنے وعدہ كو پورا كر دے،اپنے امر كی تكميل فرما اور ميرے ذريعے زمين كو عدل و انصاف سے معمور كر دے۔بچے كے داہنے شانے پر " جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل كان زہوقا،كانقش تھا اور زبان پر یہ آيت تھی : ونريد ان نمن علی الذين استضعفوا فی الارض ۔۔۔"۔
امام حسن عسكری علیہ السلام نے اپنے جد امجد نبی اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كے حكم كے مطابق خدا كی آخری حجت كا نام بھی اپنے جدامجد كی طرح محمد (ع) اور كنيت ابوالقاسم قرار دی۔اور یہ امام مہدی (ع) كی خصوصيات میں سے ہے۔
ہمارے پيش نظر ہے كہ اس مبارك و مسعود يوم ولادت كی مناسبت سے پورے عالم اسلام میں سروروشادمانی كا ايك جشن برپا ہے،جگہ جگہ گھروں،سڑكوں اور مسجدوں میں چراغانی كے اہتمام نے تاروں بھرے آسمان كو بھی اپنی رونق آرائيوں سے شرمندہ كر ركھا ہے۔خاص طور پر ہندوستان و پاكستان يا وہاں كے تہذيبی اثرات سے متاثر اسلامی حلقوں میں شب برات كی گہما گہمی،حلوے مانڈے كے اہتمامات كے ساتھ پٹاخوں كی آواز،آفتابی،ماہتابی،پھولجھڑيوں اور انار كے سينوں سے ابلتے ہوئے آتشیں قہقہوں نے عيد اور بقرعيد كی خوشيوں كو بھی پيچھے چھوڑ ديا ہے لہذا دور سے ہی سہی ان دلربا مناظر میں شركت كی غرض سے "شب برات" سے متعلق چند باتیں عرض كر دينا ضروری ہیں۔
مذہب اسلام كی مقدس كتابوں میں شب برات ايك بڑی محترم بركت و سعادت والی رات ہے اور س‍چ تو یہ ہے كہ مسلمانوں كے چشم تصور میں جتنا مسرت آگیں چہرہ اس رات كا ہے،قدر كی رات كو بھی وہ قدر ميسر نہیں ہوپاتی۔شب برات كو احاديث میں ليلۃ البراءت،ليلۃ السمك،ليلۃالرحمۃ،ليلۃ المباركہ يعنی آتش جہنم سے آزادی دلانے والی رحمت و بركت كی رات يا صحيح تلفظ كے ساتھ شب براءت اور عام زبان میں شب برات يا شبھ رات بھی كہتے ہیں۔بہر حال جو بھی صحيح ہو حلوہ اور شب برات كا چولی دامن كا ساتھ ہے۔طرح طرح كے ذائقہ دار حلوے اور اس كے پيچھے بھی ايك نكتہ ہے كہ پيغمبر اسلام (ص) كو مٹھاس بہت پسند تھی،شايد اسی لئے حلوے پر فاتحہ دلائی جاتی ہے جو عزيزوں اور دوستوں میں شب برات كے تحفے كے طور پر تقسيم كيا جاتا ہے۔چونكہ یہ رات نار جہنم سے براءت كی رات ہے لہذا تمام مسلمان اپنے لئے اور اپنے مرحوم اعزہ كے لئے دعائے مغفرت كرتے ہیں۔معتبر حديثوں میں ہے كہ پيغمبر اسلام (ص) یہ پوری رات بقيع كے قبرستان میں گزارتے اور نمازو دعا میں مشغول رہتے تھے اسی لئے اس شب میں قبرستان جانا ،قبروں پر شمعیں جلانا،نيازوفاتحہ كرنا اور عبادت و دعا میں مشغول رہنا بركت و ثواب كا باعث ہے۔چونكہ اسی شب میں امام مہدی (ع) كی ولادت بھی ہوئی ہے اس لئے یہ شب" نور علی نور " ہو گئی ہے۔اہل ايمان كا جوش محبت اسی لئے دو آتشہ ہو جاتا ہے۔علامہ زمخشری نے اس شب كی 5 خصوصيات بتائی ہیں۔1۔روزی مقرر ہوتی ہے۔2۔حيات تقسيم ہوتی ہے۔3۔عبادت ثواب كثير كی حامل ہے۔4۔رحمت كا نزول ہوتا ہے۔5۔اور یہی وہ رات ہے كہ پيغمبر اسلام (ص) كو شفاعت كا حق حاصل ہوا ہے اور غالبا"اسی مناسبت سے لوگ اپنے لئے اور اپنے مرنے والوں كے لئے دعائے مغفرت كرتے ہیں۔
لہذا آخر میں،اس مبارك و مسعود شب كی مناسبت سے ہدیۂ تبريك پيش كرتے ہوئے اپنے درميان موجود تمام اہل حق كے لئے صحت و سلامتی اور سعادت و كاميابی نيز مرنے والے عزيزوں،خصوصا" علما،صلحا اور شہدا علی الخصوص رہبر كبير حضرت امام خمينی اور ان كے رفقائے كار شہدائے انقلاب كے لئے دعائے مغفرت طلب كرتے ہیں۔

http://urdu.irib.ir/15shaban.htm
نظرات بینندگان
captcha