
ایکنا نیوز- قرآنی سفارت کاری فاؤنڈیشن کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق اسپین کے سفیر انتونیو سانچز بندیتو گاسپار نے اس ملاقات میں ایران کی تاریخی اور تہذیبی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ایران ایک عظیم تہذیب اور قدامت کا حامل ملک ہے جس پر ایک غیر منصفانہ حملہ کیا گیا۔ ایرانی عوام نے صدیوں کے دوران دلکش فنون تخلیق کیے ہیں جو ان کی عظیم روح، غنی ثقافت اور امن پسند طبیعت کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم نے ثابت کیا ہے کہ مشکل دنوں میں ہم اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ظلم اور تشدد ہمیشہ قابلِ مذمت رہے ہیں اور یہ تمام الہامی ادیان کی مشترکہ تعلیم ہے۔
جمہوریہ اسلامی ایران کے سفیرِ قرآن حامد شاکرنژاد نے بھی اس ملاقات میں عالمی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: بہت سے سیاسی اور تاریخی علوم کے ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا ایک اہم تاریخی موڑ کے دہانے پر کھڑی ہے، اور ہمارا بھی یہی یقین ہے کہ نیا دور مہذب، اخلاقی اور صالح اقوام سے تعلق رکھتا ہے۔
اس بین الاقوامی قاریِ قرآن نے مزید کہا: بلاشبہ اصیل اور تہذیب ساز اقوام کے درمیان ثقافتی اتحاد مستقبل میں دنیا کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی تعلقات کی سمت متعین کرے گا۔ مظلوم لیکن طاقتور ایرانی قوم کے لیے اسپین کی حکومت اور عوام کی حمایت ان کی اصالت، شرافت اور انسانی جذبے کی علامت ہے۔

شاکرنژاد نے قرآنی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جنگ پسندی سے اجتناب اور انسان دوستی کے جذبے کو فروغ دینا درحقیقت اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے مترادف ہے؛ یہی وہ پیغام ہے جس کی طرف قرآن انسانوں کو دعوت دیتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر قرآنی سفارت کاری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل نے ثقافتی اور قرآنی روابط کے شعبے میں فاؤنڈیشن کی بین الاقوامی سرگرمیوں اور صلاحیتوں کی وضاحت کرتے ہوئے مشترکہ تعاون کے امکانات متعارف کرائے، جنہیں اسپین کے سفیر نے سراہا۔/
4351865