ايران كی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے مطابق پتراجایہ سے موصول ہونے والی اطلاعات میں بتايا گيا ہے كہ اس اجلاس كے موقع پر كئ سربراہان مملكت نے كئ غير رسمی ملاقاتیں كیں ،اور ان ملاقاتوں میں اسرا ﺋيلی حملوں اور عالمی اداروں كا كردار زير بحث رہا ،جبكہ سابقہ اجلاس كی نسبت اس ہنگامی اجلاس میں ايك غير معمولی جذباتی ماحول نوٹ كيا گيا –كئ مسلم راہنماٶں كا خيال تھا كہ اس حوالے سے كوئ واضح اور ٹھوس حكمت عملی اپنانا ہوگی اور مستقبل میں كسی بھی مسلم ملك كو ايسے حملوں اور كسی دوسرے ملك كی جارحيت سے محفوظ ركھنے كےلیے دفاعی حكمت عملی كی بھی ضرورت محسوس كی گئ –
اس موقع پر نیٹو طرز كی مسلح ممالك كی جواﺋنٹ ڈيفنس كونسل كی تشكيل كی باتیں بھی سامنے آئ ہیں.
واضح رہے كہ عراق پر حملوں كے دوران بھی ماٹو ٫٫مكہ الاﺋنس ٹریٹی آرگناﺋزيشن٬٬ جو كہ نیٹو كی طرز پر ہے كا مكمل خاكہ پيش كيا جا چكا ہے تاہم مصر ،اردن ،اور سعودی عرب كی عدم دلچسپی كے باعث اس پر پيش رفت نہیں ہوسكی-