ايرانی وزارت خارجہ كے ترجمان سيد محمّد علی حسينی نے پوپ كے اسلام مخالف بيان كی مذمت كرتے ہوئے پوپ كے بيان كواديان الہی كی اعلی تعليمات كے منافی قرارديا ہے ۔
انہوں نے كہا كہ پوپ كا بيان ايك آسمانی مذہب كے قائد كے مقام اور اس كے فرائض سے مطابقت نہیں ركھتا ۔
ايرانی پارلمنٹ مجلس شورائے ا سلامی كے اسپيكر جناب غلام علی حداد عادل نے بھی پوپ كے غير ذمہ دارانہ بيان پر تنقيد كی ہے ۔انہوں نے كہا كہ مذہبی رہنماؤں سے دنيا والوں كی توقع ۔تفرقہ اور كشيدگی پھيلانے كے بجائے اديان كے ماننے والوں كو دوستی و محبت كی دعوت دينے كی ہے ۔
ادھر پاكستان كے صدر پرويز مشرف اور مصر كے وزير خارجہ احمد ابوالغيث نے ہوانا میں پوپ كو تنقيد كا نشانہ بناياہے ۔جنرل مشرف نے كہا كہ دہشت گردی كو اسلام سے جوڑنے كے مكروہ ہتھكنڈوں كو متحد ہوكر ناكام بنانے كی ضرورت ہے ۔پاكستان نے وٹيكن كے سفير كو دفتر خارجہ میں طلب كركے پوپ كے بيان پر احتجاج كيا ہے ۔ہندوستانی مسلمانوں نے پوپ كے بيان كے خلاف زبردست احتجاج كيا ہے ۔
ہندوستان میں بھی مسلمانوں نے پوپ كے بيان پر شديد ردعمل كا اظہار كيا ہے اور ان كے بيان كے خلاف زبردست احتجاج اور مظاہرے كئے ہیں ۔ہندوستان اور پاكستان كے بعض مسلم رہنماؤں نے كہا ہے كہ پوپ جارج بش كی زبان بول رہے ہیں ۔
اسلامی كانفرنس تنظيم او آئی سی نے پاپائے روم كے بيان پر افسوس كا اظہار كيا ہے اور فلسطينی وزير اعظم اسماعيل ہنیہ نے پوپ كے بيان كی مذمت كی ہے ۔
قاہرہ كی الازہر يونيورسٹی كے سربراہ شيخ محمّد سيد نے كہا ہے كہ جہاد كے بارے میں پاپائے روم كا بيان اسلام كے بارے میں لاعلمی پر مبنی ہے ۔دریں اثنا مليشيا كے وزير اعظم عبداللہ احمد بداوی نے كہا ہے كہ پوپ كو معافی مانگنی چاہئے ۔
واضح رہے كہ پوپ بينیڈكٹ شانزدہم نے اپنے بيان میں كہا تھا كہ مذہب اسلام كے پيغمبر تشدد كے سوا كچھ نہیں لائے تھے ۔شام ، عراق اور انڈونيشيا سميت دنيا كے بہت سے ديگر ممالك میں بھی پوپ كے بيان كی مذمت كی جاری ہے ۔(16 ستمبر 2006)
http://urdu.irib.ir/sep3.htm#17