عراق میں دہشت گردی اور امريكہ كا كردار ۔

IQNA

عراق میں دہشت گردی اور امريكہ كا كردار ۔

9:48 - September 18, 2006
خبر کا کوڈ: 1497623
رپورٹ :گذشتہ دو تين دنوں میں عراق كے دارالحكومت بغداد میں دہشت گردانہ واقعات میں كافی شدت آگئی اور بغداد كے شيعہ محلوں میں 60 سے زائد افراد جاں بحق اور 300 ديگر زخمی ہوگئے۔
گذشتہ دو تين دنوں میں عراق كے دارالحكومت بغداد میں دہشت گردانہ واقعات كافی شدت آگئی اور بغداد كے شيعہ محلوں میں 60 سے زائد افراد جاں بحق اور 300 ديگر زخمی ہوگئے ۔جبكہ مقدس شہر كربلا میں دہشت گردوں نے زائرين پر حملے كركے متعدد زائرين كوشہيد كرديا جن میں 11 پاكستانی اورتين ہندوستانی زائرين بھی شامل ہیں عراق كے مختلف علاقوں خاص طور پر بغداد میں یہ حملے ايك ايسے وقت ہورہے ہیں جب بغداد اور اس كے مضافاتی علاقوں میں امريكی فوجيوں كے ساتھ مل كر عراق كی فوج اور سكيورٹی فورسز نے سكيورٹی پلاننگ پر كام شروع كرركھا ہے ، ليكن ايسا لگتا ہے كہ حملوں كا دائرہ وسيع ہوگيا ہے اوران اندھا دھند حملوں میں عام شہريوں كو نشانہ بنايا جارہا ہے ،كيونكہ اس طرح كے حملے زيادہ تر پر ہجوم بازار اور پبلك مقامات پر ہورہے ہیں اور جتنے بھی حملے ہورہے ہیں سب كی نوعيت ايك جيسی ہے لہذا یہ كہاجا سكتا ہے كہ یہ سبھی حملے منظم اور طے شدہ منصوبے كے تحت ہورہے ہیں ۔ان تمام باتوں كو ديكھتے ہوئے انسانی جانوں كا ضياع، حملوں كی نوعيت اور عام شہريوں كا قتل عام كرنے میں استعمال كياجانے والا اسلحہ سب قابل غور نكتے ہے ۔ فقط جمعہ كے دن بغداد كے چھ شيعہ محلوں میں راكٹوں اور گرنیڈ سے حملہ كيا گيا ۔ان حملوں میں دہشت گردوں نے عام شہريوں كے خلاف بھاری ہتھياروں كا استعمال كيا ۔مبصرين كا كہنا ہے اس امر كے پيش نظر كہ عراق كی سكيورٹی ايجنسی ،پوليس اور فوج امريكی فوج كی زير نگرانی كام كرتی ہے لہذا عراق كی سكيورٹی اور امن و امان ،شہريوں كے خلاف دہشت گردانہ كارروائيوں میں اضافے بالخصوص شيعوں كے قتل عام كی ذمہ داری امريكی فوج پر عائد ہوتی ہے ۔خاص طور پر اس لئے بھی كہ صدام حكومت كی خفیہ ايجنسی كے اہلكاروں ،بعث پارٹی كے افراد اور مسلّح دہشت گردوں سے امريكی حكام كے رابطے كسی سےڈھكے چھپے نہیں رہ گئے ہیں ۔امريكہ كی پوری كوشش یہ ہے كہ شيعہ اور سنی مسلمانوں كو ايك دوسرے كے مدّ مقابل لاكر اور عراق كو خانہ جنگی میں دھكيل كر عراق كی حكومت میں اپنی مرضی كے افراد كو لانے كا راستہ ہموار كرے ۔عراق كی موجودہ حكومت كو ناكارہ ظاہر كركے بعثی عناصر كو عراق كے سياسی منظرنامے پر دوبارہ لانا بھی امريكی منصوبے كا ايك حصہ ہے ۔اس درميان واشنگٹن كے حكام عراق میں تشدد آميز اقدامات كو ہوا دے كر كوشش كررہے ہیں عراق میں اپنی فوجی موجودگی كو بھی برقرار ركھیں ۔عراق كی امن و امان كی صورتحال ہميشہ ہی عراق میں امريكيوں كے ہاتھ كا حربہ رہی ہے۔اس كے باوجود ايك نكتے سے غافل نہیں رہنا چاہئے ۔وہ یہ كہ عراق كے اندر كے حالات وزير اعظم نوری المالكی كے مقاصد اور پروگراموں كے حق میں ہیں اور حكومت كی قومی آشتی كی پاليسی اور منصوبے كو عراقی عوام كی حمايت حاصل ہے اور یہ پاليسی اور اس پاليسی كے لئے عراقی عوام كی حمايت يقينی طور پر امريكہ كے لیےمشكل ثابت ہوگی كيونكہ بش پاليسيوں پر پوری دنيا میں اعتراض بڑھتا جارہا ہے اور بش انتظامیہ كے نوقدامت پسند دھڑے كو امريكی عوام كو جواب دينے كے ساتھ ساتھ عراق میں بھی اپنی غلط پاليسيوں اورغلطيوں كا جواب دينا پڑے گا ۔

نظرات بینندگان
captcha