عراقی وزير اعظم كی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات ۔

IQNA

عراقی وزير اعظم كی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات ۔

9:33 - September 18, 2006
خبر کا کوڈ: 1497626
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمايا قابض افواج كے انخلاء سے عراق كی بہت ساری مشكلات حل ہوجائیں گی ۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمايا قابض افواج كے انخلاء سے عراق كی بہت ساری مشكلات حل ہوجائیں گی ۔حضرت آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے تہران كے دورے پر آئے عراقی وزير ا‏عظم نوری المالكی سے ملاقات میں فرمايا اسلامی جمہوریۂ ايران عراق كے عوام اور حكومت كی عملی حمايت كرنا اپنا فريضہ سمجھتا ہے ۔عراق كے وزير اعظم نوری المالكی نے بھی اس ملاقات میں عراقی عوام اور حكومت كے لئے اسلامی جمہوریۂ ايران كی حمايت كا شكریہ ادا كيا اور كہا كہ دوست اور ہمسایہ ملكوں كے ساتھ تعلقات كی توسيع عراقی حكومت كی خارجہ پاليسی كی ترجيحات میں ہے ۔عراق كی عوامی اور منتخب حكومت كا وزير اعظم بننے كے بعد نوری المالكی كا یہ پہلا دورۂ ايران تھا ۔اسی لئے اس دورے كی كافی اہميت تھی ۔ عراقی حكومت اورعوام كو بے شمار مشكلات اور پريشانيوں كا سامنا ہے جن كو حل كرنے كےلئے پہلے اس ملك میں امن و امان برقرار كرنا ہوگا ۔عراق نے ديگر ملكوں منجملہ اسلامی جموریۂ ايران سے جو معاہدے كئے ہیں ان میں سے اكثر معاہدوں پر سيكورٹی كی صورتحال كی وجہ سے عمل درآمد نہیں ہوپارہا ہے ۔عراق پر قبضے كو تين سال كا عرصہ گذرجانے كے باوجود عراقی عوام كوابھی تك اپنے ملك كے داخلی حالات كو بہتر بنانے كا موقع نہیں مل سكا ہے ۔كيونكہ امريكہ اور برطانیہ كے زير قبضہ ملك عراق میں جان كا تحفظ عراقی شہريوں كا سب سے پہلا مسئلہ ہے ۔بلا سبب شہريوں كو موت كی نيند سلانے كے لئے كئے جانے والے بم دھماكے ، بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ كارروائياں اورتشدد آميز اقدامات عراقی عوام كے معمولات كا حصہ بن گئے ہیں ۔كيونكہ قابض فوجيوں نے اپنے ابتدائی دعووں كے باوجود عراق میں امن و امان بحال كرنے اور امن قائم كرنے كے لئے كوئی مؤثر اقدام نہیں كيا ۔حضرت آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے عراقی وزير اعظم سے ملاقات میں انہی مسائل كی جانب اشارہ كيا ہے ۔رہبر انقلاب اسلامی نے عراقی عوام مصائب و آلام پر افسوس كا اظہار كرتے ہوئے فرمايا كہ عراقی عوام كے روز مرہ كے مصائب و پريشانيوں كا كچھ حصہ سابق بعثی حكومت كی دين ہے اور كچھ كا تعلق عراق میں قابض فوجيوں كی موجودگی سے ہے ۔ عراقی عوام اپنے ملك میں اغيار كی فوجی موجودگی كی وجہ سے اپنے مادی اور انسانی وسائل سے استفادہ نہیں كرپارہے ہیں اور عراقی حكام بھی عراق كے روزمرہ كے خونين واقعات كے ‎سدّباب كی كوششوں میں ہی مصروف ہیں اور انہیں ملك كی تعمير نو كے پروگراموں پر كام كرنے كا موقع نہیں مل پارہا ہے لہذا عراق سے قابض افواج كا انخلاء ايك آزاد ، خود مختار اور خوشحال عراق كی بنياد ركھنے كا پہلا قدم ثابت ہوگا ۔تا ہم موجودہ مشكلات پر قابو پانے كے لئے عراق كے مختلف اقوام و مذاہب كے درميان اتحاد ضرورت بن چكا ہے۔

نظرات بینندگان
captcha