ايران كی قرانی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے حوزہ علمیہ كے مركز خبر سے نقل كيا ہے كہ اس ٹيسٹ كو منعقد كرنے والی كمیٹی كے سربراہ سيد محمد حسينی نے كہا كہ حفاظ كی تعداد میں اضافے كی وجہ سے ضروری ہے كہ ہم حفظ كے ميدان میں پيشرفتہ طريقہ تعليم كو راﺋج كریں تاكہ قرآن اور نہج البلاغہ كے حفاظ سے صحيح استفادہ ہو سكے –
انہوں نے مزيد كہا كہ حفاظ كی قدردانی اور ان كی صحيح شناخت كے لیے دس سال سے ايسا ٹيست ہورہا ہے جس میں كل قرآن كے حافظ ،نصف قرآن اور دس پاروں كے حافظين شركت كرتے ہیں ،اس دفعہ صرف قم میں شركاء كی تعداد گذشتہ سال كی نسبت دوگنا ہوگئ ہے چونكہ پچھلے سال ۷۰۰ افراد نے اور اس دفعہ ۱۴۰۰ افراد نے اس میں شركت كی –