اسلامی جمہوریۂ ايران كے صدر جناب محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ كی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں دنيا میں بڑھتی ناانصافی ،بدامنيوں كو ہوا دينے میں بعض طاقتوں كے كردار اور اقوام متحدہ سے حربے كے طور پر استفادہ كئے جانے كا ذكر كرتے ہوئے اقوام متحدہ میں اصلاحات كی ضرورت پر زورديا ۔اس امر كے پيش نظر كہ ايران كے پرامن ایٹمی پروگراموں سے مربوط مسائل دنيا كے سياسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ كے اہم موضوعات میں سے ہیں ۔اسلامی جمہوریۂ ايران كے صدر نے ايران كو پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے محروم كرنے سے متعلق امريكی كوششوں پر تنقيد كرتے ہوئے كہا ايران آئی اے ای اے كا ركن اور اين پی ٹی معاہدے كا پابند ہے اور ايران كی تمام پرامن ایٹمی سرگرمياں بھی آشكارہ ، شفاف اور آئی اے ای اے كے معائنہ كاريوں كی براہ راست اور مسلسل نگرانی میں انجام پارہی ہیں ۔اس كے باوجود امريكی صدر بش نےاقوام متحدہ كی جنرل اسمبلی میں اپنی تقرير كے دوران دہشت گردی كے لئے ايران كی حمايت اور ایٹمی اسلحوں كے حصول كے لئے تہران كی كوشش سے متعلق اپنے بے بنياد دعوے ايك بار پھر دہرائے امريكی صدر بش نے دنيا بھر كے سربراہوں كے سامنے ايران كی پرامن ایٹمی سرگرميوں كو منفی انداز میں بنا كر پيش كرنے كی كوشش ايك ايسے وقت كی ہے جب عالمی برادری كی اكثريت بالخصوص ناوابستہ تحريك كے سبھی 118 ركن ملكوں نے كہا ہےكہ ايران كے ایٹمی معاملے كو مذاكرات كے ذريعے ہی حل كياجاسكتا ہے اور پرامن مقاصد كے لئے ایٹمی ٹيكنالوجی كا حصول ايران كاحق ہے ۔یہ ايسی حالت میں ہے كہ ايران كے ایٹمی پروگراموں كےبارے میں كوئی فيصلہ كرنے كے تعلق سے اقوام متحدہ كی سلامتی كونسل كے مستقل ممبران كے درميان اختلافات بھی شدت اختيار كرتے جارہے ہیں جرمنی اور اقوام متحدہ كی سلامتی كونسل كے مستقل ممبران واشنگٹن میں منگل كو اپنے اجلاس میں ايران كے خلاف امريكہ كی تجويز كردہ پابنديوں پر متفق نہیں ہوسكے ۔در اصل دنيا میں ناانصافيوں كی ايك بڑی وجہ جيسا كہ اسلامی جمہوریۂ ايران كے صدر نے بھی كہا امريكہ كی خودسرانہ اور جنگ پسندانہ پاليسی ہے اور خاص طور پر امريكہ كے ہاتھوں سلامتی كونسل كا غلط استعمال ہے ۔امريكہ اور برطانیہ كی حكومتیں ايران كے ایٹمی معاملے كو سلامتی كونسل میں لے جاكر ايران كی ایٹمی سرگرميوں كو روكنا يا پھر ايران كے خلاف اقتصادی پابندياں عائد كرنا چاہتی ہیں ۔ليكن بش نے اپنے بيانات میں دعویٰ كيا ہے كہ امريكہ كو پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی كے حصول كے بارے میں ايران كی كوشش پر كوئی اعتراض نہیں ہے ۔حالانكہ امريكی حكومت نے ہميشہ ايران كی پرامن ایٹمی سرگرميوں كو بند كرانے كی كوشش كی ہے اور ايران كے ایٹمی معاملے كو سفارتی طريقے سے حل كئے جانے كی كوششوں كو سبوتاژ كرنا چارہا ہے ۔امريكہ كے نائب وزير خارجہ نيكلس برنز نے ان ملكوں كو پابنديوں كی دھمكی بھی دے ڈالی ہے جو ايران میں سرمایہ كاری كریں گے ۔لہذا ايرانی عوام كی حمايت میں بش كا بيان محض ايك دھوكہ ہے ۔انہی حقائق كے پيش نظر ہی اسلامی جمہوریۂ ايران كے صدر نے اعلان كيا دنيا پر حكمفرما بہت سے عالمی تعلقات پر بعض طاقتوں كے غير منصفانہ اور تفريق آميز اقدامات كا اثر ہے ۔ايران كی پرامن ایٹمی سرگرميوں اور بيت المقدس كی غاصب حكومت كے ایٹمی ہتھياروں كے بارے میں مغرب كا دوہرا رویّہ بڑی طاقتوں كے ذريعے دنيا میں ناانصافيوں كو بڑھاوا دينے كی صرف ايك مثال ہے اور یہی صورتحال اقوام متحدہ كے لئے چيلنج بن گئی ہے ۔