اين پی ٹی كے مطابق ايران كے حقوق اور پابنديوں میں توازن كی ضرورت

IQNA

اين پی ٹی كے مطابق ايران كے حقوق اور پابنديوں میں توازن كی ضرورت

13:04 - September 28, 2006
خبر کا کوڈ: 1499765




ايران اين پی ٹی معاہدے میں اپنی 36 سالہ ركنيت كے بعد نہ صرف یہ كہ ایٹمی ٹيكنالوجی سے پرامن استفادے كا حق ركھتا ہے بلكہ اپنے قانونی حق سے استفادے كا ارادہ بھی ركھتا ہے ۔اسی بنا پر اسلامی جمہوریۂ ايران كے وزير خارجہ نے نيويارك میں مقيم ايرانيون كے ايك اجتماع میں اين پی ٹی معاہدے كے قوانين كے مطابق اپنے حقوق اور پابنديوں میں توازن كا مطالبہ كيا ۔منوچہرمتكی كا یہ مطالبہ اس قانونی حقيقت كا مظہر ہے كہ حكومتوں پر بين الاقوامی قوانين كی رو سے يكساں حقوق اور فرائض عائد ہوتے ہیں ۔دوسرے الفاظ میں اگر چہ حكومتیں بين الاقوامی معاہدوں اوراداروں میں شامل ہوكر پابنديوں كو قبول كرتی ہیں ليكن پھر ان كو سہوليات بھی ملتی ہیں ۔لہذا پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادے كی ايران كی كوشش بھی بين الاقوامی قوانين كے مطابق ہے ۔ اين پی ٹی معاہدہ جس طرح عالمی برادری كو ایٹمی ہتھياروں كے حصول سے روكتا ہے اسی طرح ایٹمی سائنس و ٹيكنالوجی سے پرامن استفادے كی اجازت ديتا ہے اور اس كی ترغيب ديتا ہے ۔ بنابریں ايران كی ایٹمی سرگرمياں ترك كئے جانے كا مغربی حكومتوں كا مطالبہ نہ صرف قانونی دليل نہیں ركھتا بلكہ ايران كے اقتدار اعلیٰ كی خلاف ورزی بھی ہے ۔ايران كے ایٹمی معاملے كے سلسلے میں مغرب كے امتيازی رویے پر ايران كے وزير خارجہ كی تنقيد كی وجہ یہ ہے كہ مغربی حكومتیں دھمكی اور رعب و وحشت اور غير اصولی اقدامات كے ذريعے ايران كو پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادے كے اپنے قانونی حق سے دستبردار ہونے كے لئے مجبور كرنے كی كوشش كررہی ہیں ۔ايران سے ایٹمی سرگرمياں ترك كرنے كا مغربی حكومتوں كا مطالبہ غير قانونی اور اين پی ٹی معاہدے كی كھلّم كھلّا خلاف ورزی كے مترادف ہے ۔اين پی ٹی كی شق 4 میں ایٹمی ٹيكنالوجی سے پرامن استفادے كا ملكوں كا حق تسليم كيا گيا ہے اور ایٹمی ٹيكنالوجی كے حامل ممالك كواس بات كا پابند كيا گيا ہے كہ وہ ترقی پذيرملكوں كو ایٹمی توانائی منتقل كرنے كے لئے ضروری اقدام كریں ليكن مغربی حكومتیں اين پی ٹی معاہدے كےبرخلاف اس معاہدے میں تبديلی كركے ترقی پذير ممالك كو ایٹمی ٹيكنالوجی خاص طور سے يورے نيم كی افزودگی اور ایٹمی ايندھن كے حصول سے محروم كرنے كے درپے ہیں۔ناوابستہ تحريك كے ركن 118 ممالك كی طرف سےپرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادے كے ايرانی حق كی حمايت ترقی پذير ممالك كے مسلمہ حقوق كے دفاع پر تاكيد ہے ۔چونكہ اقوام متحدہ كی سلامتی كونسل ملكوں كو ان كے قانونی حقوق سے محروم كرنے كا اختيار نہیں ركھتی اور ايران كا ایٹمی معاملہ سلامتی كونسل میں بھيجنے كا كوئی قانونی جواز نہیں ہے اس لئے امريكہ كی ايران كو ایٹمی سرگرمياں روكنے كے لئے سلامتی كونسل كو استعمال كرنے كی كوشش ناكام ہوگئی ہے ۔وزير خارجہ منوچہر متكی كا مطالبہ اس حقيقت كا مظہر ہے كہ جس طرح ايران اين پی ٹی كے قوانين پر عمل درآمد كا پابند ہے اسی طرح ایٹمی توانائی كی عالمی ايجنسی آئی اے ای اے اور مغربی ممالك بھی ايران كے سلسلے میں اپنے وعدوں كے پابند ہوں اور اين پی ٹی كے مطابق عمل كریں ۔(26 ستمبر 2006)

نظرات بینندگان
captcha