بوشہر ایٹمی بجلی گھر كےافتتاح كے وقت كے تعين كے لئے تہران اورماسكو نے مذاكرات كے نئے دور كا آغاز كردياہے ۔اسلامی جمہوریۂ ايران كی ایٹمی توانائی ايجنسی كے سربراہ جناب غلام رضا آقا زادہ ان مذاكرات كے لئے آج ايك اعلیٰ سطحی وفد كو ساتھ لے كرماسكو پہنچے۔اسلامی جمہوریۂ ايران كے ساتھ پرامن ایٹمی تعاون كے سلسلے میں روس كے اسٹریٹجك كردار كے پيش نظر سياسی مبصرين جناب غلام رضا آقا زادہ كے دورے كو اہم قراردے رہے ہیں البتہ پرامن ایٹمی سرگرميوں كے دائرے میں تہران اور ماسكو كے اسٹریٹجك تعاون كےعلاوہ روسی حكام كے ساتھ جناب غلام رضا آقا زادہ كےمذاكرات كوجو چيز زيادہ اہم بناتی ہےوہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر كے مكمل ہونے اور اس كے افتتاح كے سلسلے میں ہونی والی تاخير كا مسئلہ ہے اوراس دورے كا ايك مقصد بوشہر ایٹمی بجلی گھر كے افتتاح كے وقت كے تعين اور روس سے ايران كو ایٹمی ايندھن كی فراہمی كے بارے میں حتمی سمجھوتہ كرنا ہے ۔ بوشہر ایٹمی بجلی گھر كی تعمير كے بارے میں ايران اور روس كے درميان 24 اگست سنہ 1992 ع میں سمجھوتہ ہوا تھا ۔ليكن اس پر عملدرآمد كا آغاز سنہ 1996 سے ہوا ۔ ابتدائی سمجھوتے كے مطابق بوشہر ایٹمی بجلی گھر كا افتتاح سنہ 2004 ع میں ہونا تھا ليكن بعض فنی وجوہات اور روسی كمپنی كی مينيجمنٹ میں تبديلی كی بنا پر بوشہر ایٹمی بجلی گھر كا افتتاح سنہ 2005 تك اور پھر سنہ 2006 تك ملتوی ہوگيااور اب روسی حكام كے بيانات كے مطابق اس ایٹمی بجلی گھر كا افتتاح سنہ 2007 تك ملتوی كرديا گياہے ۔یہ بات مسلم ہے كہ سنہ 2005 كے اوائل میں ايران اورروس كی ایٹمی توانائی كی ايجنسيوں كے درميان طے پائے جانے والے سمجھوتے كے مطابق استعمال شدہ ایٹمی ايندھن روس كو واپس لوٹائے جانے جيسے مسئلے سميت بوشہر ایٹمی بجلی گھر سے متعلق تمام معاہدے مكمل طور پر واضح ہیں اور اصولا" اس سلسلے میں كوئی ركاوٹ نہیں ہونی چاہئے ۔بوشہر ایٹمی بجلی گھر كی تعمير كا منصوبہ انقلاب اسلامی ايران كی كاميابی سے پہلے كا ہے ۔یہ منصوبہ ستر كے عشرے میں تيار كيا گيا ليكن پيش آمدہ صورتحال كی وجہ سے یہ ايك پيچيدہ اور وقت طلب منصوبے میں بدل گيا ہے ۔ايران میں ایٹمی توانائی كی ايجنسی كے قيام كے دو سال بعد سنہ 1971 ع میں اس منصوبے كے بارے میں ايران اور جرمنی كے درميان سمجھوتہ طے پايا ليكن اس سمجھوتے پر مكمل طور پر عمل درآمد نہ ہوسكا اور پھر پيش آمدہ حالات كے باعث روس نے ايران كے ساتھ ايك سمجھوتے پردستخط كركے اس منصوبے كو مكمل كرنے كی ذمہ داری اٹھائی ۔بوشہر ایٹمی بجلی گھر اپنی نوعيت كا ايك جديد ترين ایٹمی بجلی گھر ہے اوریہ ایٹمی تابكاری اور ماحولياتی آلودگی سے بچاؤ كے تمام معياروں پر پورا اترتاہے ۔اس لئے اس ایٹمی بجلی گھر كی تعمير روس كے لئے بھی اہميت كی حامل ہے ۔حقيقت یہ ہے كہ سمجھوتے كے مطابق وعدوں پر عمل درآمد اور اس منصوبے كے مختلف مراحل كی تكميل اس سے ملتے جلتے دوسرے منصوبوں كو عملی جامہ پہنانے اور اپنے وعدوں پرعمل كرنے كے سلسلے میں روس كی اہليت كو جانچنے كی كسوٹی كے مترادف ہے اوریہ مسئلہ ايران اور خطے كے دوسرے ممالك میں توانائی كے منصوبوں كی تكميل كے لئے يورپی اور ايشيائی حريفوں كی موجودگی كے پيش نظر اہميت كا حامل ہے ۔اس لئے ماہرين كا كہنا ہے كہ اس منصوبے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں تيزی پيدا كرنا عالمی سطح پر ماسكو كی ساكھ كا مسئلہ ہے ۔ تہران بھی جديد توانائی كی ضروريات نيز اقتصادی ترقی كے منصوبے كے تحت ایٹمی بجلی گھروں كے ذريعے بيس ہزار ميگاواٹ بجلی كی ضروريات پوری كئے جانے كے پيش نظر بوشہر ایٹمی بجلی گھر كےجلد مكمل كئے جانے پر زوردے رہا ہے -