_______
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) اور ریڈيو تہران نے خبر دی ہے كہ لندن سے موصولہ رپورٹ كے مطابق ايمنسٹی انٹرنيشنل نے اپنی ايك رپورٹ میں كہا ہے كہ گذشتہ پانچ برسوں كے دوران پاكستان میں حراست میں لئے جانے والے افراد میں سے بعض گوانتانامو كی جيل میں امريكی حراست میں پائے گئے جبكہ سيكڑوں افراد كا كوئی پتہ نہیں چلا كہ وہ كہاں ہیں۔
ايمنسٹی انٹرنيشنل نے پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف سے مطالبہ كيا ہے كہ حراست میں لئے جانے والے افراد كی ايك مركزی فہرست تيار كرائیں تاكہ اس طرح كے غير قانونی اغوا كو روكا جاسكے۔
انسانی حقوق كی عالمی تنظيم ايمنسٹی انٹرنيشنل نے اپنی رپورٹ میں كہا ہے كہ پاكستان میں حراست میں لئے جانے والے سيكڑوں افراد كو امريكہ كے ہاتھ پانچ ہزار ڈالر فی كس كے عوض فروخت كرديا گيا ہے۔
رپورٹ كے مطابق پاكستان میں لوگوں كو غير قانونی حراست میں دينے كے كام میں عام لوگ اور پوليس افسران دونوں شامل رہے ہیں ۔
ايمنسٹی انٹرنيشنل كے مطابق پاكستان میں اس قسم كی كاروائيوں میں صرف گرفتار كرنے والے كی گواہی پر حراست میں لئے جانے والوں كو دہشت گرد قرار دے ديا گياہے ۔
اس رپورٹ میں ايسی خواتين اور بچوں كے نام بھی شامل ہیں جنہیں پاكستان كی سيكورٹی ايجنسيوں نے گرفتار كيا اور ان میں سے بعض ابھی تك لاپتہ ہیں۔
ايمنسٹی انٹرنيشنل كا كہنا ہے كہ حراستیں جس خفیہ طريقے سے كی جاتی ہیں اس سے یہ بتانا غير ممكن ہے كہ كتنے افراد كو خفیہ مقامات پر ركھا گيا ہے۔______