،اسی بنا پر لاريجانی اور سولانا نے ٹيليفون پر گفتگو كرتے ہوئے تمام فريقوں كے ساتھ صلاح ومشورے كے جاری رہنے پر تاكيد كی ہے ،صلاح مشورے كے اسی تسلسل كو جاری ركھتے ہوئے روس كی قومی سلامتی كونسل كے سكریٹری ايگورايوانف آج تہران پہنچے ہیں ۔موجودہ صورتحال میں ايك طرف عالمی برادری ايران كے ایٹمی معاملےكو مفاہمت آميزطريقے اور ایٹمی انرجی كی عالمی ايجنسی كے دائرے كار كے تحت حل كرنے كی خواہاں ہے تو دوسری طرف امريكہ يكہ و تنہا ،مذاكرات كے مثبت ماحول كو خراب كرنے كی كوشش كررہا ہے اور سلامتی كونسل كے مستقل اراكیں سے یہ چاہتا ہے كہ وہ ايران كے خلاف پابنديوں كی قرارداد پاس كریں اور اسی غرض سے امريكی وزير خارجہ كونڈوليزارائس مشرق وسطیٰ كے بعض ملكوں كے دورے پر آئی ہوئی ہیں تاكہ ايران كے پرامن ایٹمی پروگرام كو خطرناك بتاكر ان ملكون كو ايران كے خلاف اپنا ہمنوا بنا سكیں ،اس كے علاوہ آئندہ چند دنوں میں پانچ جمع ايك گروپ كے ملكوں كا اجلاس ہونے والا ہے جس كے مد نظر امريكی نائب وزير خارجہ نكولس برنزنے ان ملكوں كےنمائندوں سے صلاح ومشورے شروع كردئے ہیں تاكہ یہ ظاہركرسكیں كہ واشنگٹن كو ايران كے خلاف پابنديان عائد كرنے كے سلسلے میں اپنے اتحاديوں كی حمايت حاصل كرنے میں كاميابی مل گئی ہے ،ليكن حقيقت حال یہ نہیں ہے بلكہ امريكہ كی توسيع پسندانہ پاليسوں كے خلاف عالمی برادری كی مزاحمت كی بنا پرامريكہ الگ تھلگ ہوكر رہ گيا ہے یہاں تك كہ خود امريكہ كے ذرائع ابلاغ اورسياسی و علمی حلقوں میں ايران كے خلاف وھائٹ ہاؤس كی غلط پاليسيوں پر تنقيدیں ہورہی ہیں اور ان تنقيدوں میں روزبروزاضافہ ہوتاجارہا ہے ،امريكی حكام اس صورتحال سے چھٹكارہ پانےكے لئے یہ ظاہر كرنے كی كوشش كررہے ہیں كہ انہیں ايران كے خلاف عالمی برادری كی حمايت حاصل ہوچكی ہے اسی وجہ سے امريكی صدر بش نے روسی صدر پوتين كو ٹيليفون كيا تھا تاكہ انہیں مجبور كرسكیں كہ وہ ايران كو يورينيم كی افزودگی بند كرنے پر راضی كرلیں ۔امريكی حكام وسيع پروپيگنڈا كركے یہ ظاہركرنےكی كوشش كررہے ہیں كہ اگر ايران نے يورينيم كی افزودگی بند نہیں كی تو اس پر پابندياں عائد كی جائیں گی ليكن روس اور چين ايران كے خلاف پابنديان عائد كرنے كے سخت مخالف ہیں اس كے علاوہ واشنگٹن كے فرانس جيسے يورپی اتحادی بھی پابنديوں كے مخالفين كی فہرست میں شامل ہوچكے ہیں بنابریں سلامتی كونسل كے مستقل اراكين كے مابين شديد اختلاف اور بش انتطامیہ میں داخلی سطح پر شديد مسائل كے پيش نظر یہ كہا جاسكتاہے كہ وھائٹ ہاؤس كے حكام شديد مسائل كا شكار ہوچكے ہیں اور بالٹيمور سن اخبار كے مطابق اس كی وجہ ايران كے بارے میں امريكی حكا م كے غلط اندازے اور غلطياں ہیں ۔