ايران غير مشروط مذاكرات پر يقين ركھتا ہے

IQNA

ايران غير مشروط مذاكرات پر يقين ركھتا ہے

9:22 - October 04, 2006
خبر کا کوڈ: 1500814
اسلامی جمہوریۂ ايران كی وزارت خارجہ كے ترجمان محمد علی حسينی نے كہا ہے كہ ايران پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی كے استعمال سے متعلق ملت ايران كے حقوق كے حصول اور منصفانہ راہ حل تلاش كرنے كے لئے غير مشروط مذاكرات پر يقين ركھتا ہے ۔ايران نے بعض يورپی ذرائع ابلاغ كے پروپيگنڈے اور يورپی حكام كے بيانات كے ردعمل میں ايك بار پھر ایٹمی معاملے سے متعلق مذاكرات كے لئے ہر طرح كی پيشگی شرط كو مسترد كرديا ہے ۔

27 اور 28 ستمبر كو ايران كی اعلیٰ قومی سلامتی كونسل كے سيكریٹری علی لاريجانی اور يورپی يونين كی خارجہ پاليسی كے ڈائريكٹر خاوير سولانا كے درميان ایٹمی معاملے پرمذاكرات كا چوتھا دور ہوا اور فريقين نے مذاكرات جاری رہنے كی اميد كا اظہار كيا ہے ۔ايسے حالات میں بعض يورپی ذرائع ابلاغ اور سياسی حلقے امريكہ كی پيروی كرتے ہوئے ايران كی جانب سے يورينيم كی افزودگی روكنے كو مذاكرات كی پيشگی شرط كا مسئلہ اٹھا كر مذاكرات كے حوالے سے پائے جانے والے مثبت ماحول كو كشيدہ بنانے كی كوشش میں ہیں ليكن تجربے سے پتہ چلتا ہے كہ بعض يورپی ممالك كی جانب سے ايران كے ایٹمی معاملے كو غلط راستے پر ڈالنے كے سلسلے میں عجلت پسندی سے كام لئے جانے كا نہ صرف كوئی مثبت نتيجہ برآمد نہ ہوگا بلكہ اس سے حالات زيادہ پيچيدہ ہوجائیں گے كيونكہ عالمی برادری كی اكثريت پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی تك رسائی پر مبنی ايران كے حق پر زور ديتی ہے اور وہ ايران كے ایٹمی معاملے كے پرامن حل كی خواہاں ہے ۔وائٹ ہاؤس كے حكام اوران كے بعض يورپی اتحاديوں كااصل مقصد ملت ايران كو پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی كے استعمال سے محروم كركے ايران كی ترقی كے سد راہ ہونا ہے ۔ايران اگر چہ مذاكرات كی حمايت كرتا ہے اور مذاكرات كو مسائل كا بہترين حل جانتا ہے ليكن مذاكرات صرف مساوی سطح پر اور غير مشروط ہونے كی صورت میں ہی سودمند ہوسكتے ہیں -





نظرات بینندگان
captcha