
ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق نائجیریا کی نصف سے زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، تاہم وہ نمایاں طور پر اہم اور کلیدی عہدوں سے دور ہیں اور خاص طور پر ملک کے شمالی علاقوں میں فقر و غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اسی صورتحال نے بوکو حرام جیسے مسلح گروہوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسلام دسویں صدی میں نائجیریا کے شمالی علاقوں میں پہنچا، جبکہ عیسائیت بیسویں صدی میں برطانوی استعمار کے ساتھ ملک میں داخل ہوئی اور جنوبی علاقوں میں زیادہ مضبوط ہوئی۔
اس ملک کی تاریخ جغرافیائی اختلافات، استعماری طاقتوں کے ساتھ تعاون یا ان کے خلاف مزاحمت کے باعث فرقہ وارانہ تنازعات سے بھری ہوئی ہے۔ تاہم اکیسویں صدی کے آغاز میں بوکو حرام اور دیگر مسلح گروہوں کے ظہور نے تشدد کے خوف کے تحت مختلف مذہبی گروہوں کو باہمی بقائے باہمی پر مجبور کر دیا ہے۔
صوبہ کانو سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمان محمد گاربا نے کہا کہ ان گروہوں کی جانب سے لوگوں کو نشانہ بنانا، امریکی دعووں کے برخلاف، مذہب کی بنیاد پر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عیسائی بھی موجود ہیں جو ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔ گاربا کے مطابق، جب صوبہ بورنو کے شہر چیبوک سے طالبات کو اغوا کیا گیا تھا تو ان میں اکثریت مسلمان لڑکیوں کی تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نائجیریا میں جاری شورش کسی ایک مذہب کے ماننے والوں تک محدود نہیں ہے۔
بے روزگاری اور غربت
نائجیریا میں مسلمان اور عیسائی دونوں صدارتی منصب تک انتخابات کے ذریعے پہنچتے ہیں۔ ملک بلکہ پورے افریقہ کے امیر ترین شخص، الیکو ڈانگوٹے، بھی مسلمان ہیں اور شمالی شہر کانو میں پیدا ہوئے تھے۔
اس کے باوجود نائجیریا کے غریب اور بے روزگار مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد شمالی علاقوں میں آباد ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ملک کے رسمی تعلیمی نظام پر جاری اختلافات ہیں۔
ابوجا کی ایک مسجد کے امام، شیخ ابراہیم المقری، کہتے ہیں کہ مسلمان اگرچہ نائجیریا میں سب سے بڑی آبادی رکھتے ہیں، لیکن سرکاری اور نجی شعبوں میں ان کا اثر و رسوخ اور نمائندگی سب سے کم ہے، اور وہ اب بھی معاشرے میں عیسائیوں کے برابر مقام حاصل نہیں کر سکے ہیں۔
تقریباً 24 کروڑ کی آبادی میں سے 10 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے ساتھ نائجیریا افریقہ کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے۔
شمالی علاقوں کے نوجوانوں کے ساتھ اکثر غیر تعلیم یافتہ افراد جیسا سلوک کیا جاتا ہے، کیونکہ نائجیریا کا تعلیمی نظام صرف برطانوی استعماری نصاب کو تسلیم کرتا ہے، جسے مسلم آبادی کا ایک بڑا حصہ قبول نہیں کرتا۔ وہ پہلے مقامی زبانوں اور پھر قرآن کی زبان عربی سے وابستگی رکھتے ہیں۔
اسی سوچ کے پس منظر میں بوکو حرام وجود میں آئی، جس کے نام کا مفہوم ہی مغربی تعلیم اور اس سے وابستہ تصورات کی مخالفت کو ظاہر کرتا ہے۔
اگرچہ حکومت انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد میں مذہبی علما پر انحصار کرتی ہے، لیکن مسلمان معاشرے میں تمام شہریوں کے درمیان بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے قیام کے لیے حکومت سے مؤثر کردار ادا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اصل مسئلہ انتہا پسند نظریات نہیں بلکہ غربت ہے، جبکہ بے روزگاری صرف مایوسی اور محرومی کو جنم دیتی ہے۔/
4357413