
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے ’’مسلمون حول العالم‘‘ کے مطابق بوسنیا و ہرزیگووینا کی مسلم برادری میں دینی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی اس تقریب کا انعقاد نئے تعلیمی سالِ قرآن و علومِ اسلامی کے اختتام کی مناسبت سے کیا گیا۔ اس موقع پر تقریباً 500 طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جو قرآن کریم کی تعلیم کے تیسرے مرحلے سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ ان کی تربیت و تعلیم پر مامور 79 اساتذہ بھی تقریب میں موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انیس سفراکا نے رسول اکرمؐ کے اس فرمان کا حوالہ دیا کہ آپؐ کو معلم بنا کر بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا بنیادی پیغام تعلیم و تربیت اور انسان سازی پر مبنی ہے۔
دوسری جانب مولودین دیزدارویچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآنی مدار مسلم معاشرے کی دینی، اخلاقی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے نہایت اہم مراکز ہیں۔ ان کے مطابق بچے ان اداروں سے ایسی اقدار حاصل کرتے ہیں جو پوری زندگی ان کے ساتھ رہتی ہیں اور انہیں ذمہ دار شہری اور معاشرے کے مفید فرد بننے کی راہ دکھاتی ہیں۔
اس موقع پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو ’’افتخارِ کُتّاب‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس اعزاز کے لیے ہر مسجد یا تعلیمی مرکز سے ایک طالب علم کا انتخاب کیا گیا جس نے تعلیمی میدان میں بہترین پیش رفت، نظم و ضبط اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کیا تھا۔
منتظمین نے بتایا کہ زینیتسا کے قرآنی مدارس میں 6 ہزار سے زائد طلبہ باقاعدگی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ 79 اساتذہ ان کی تدریسی و تربیتی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار مسلم معاشرے میں اس تعلیمی نظام کی اہمیت اور اثر پذیری کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرآنی مدرسہ صرف قرآن کریم کی تعلیم کا مرکز نہیں بلکہ ایک جامع تربیتی ادارہ ہے، جو خاندان کے کردار کو تقویت دیتے ہوئے ایسی نسل کی تیاری میں مدد دیتا ہے جو اعلیٰ اخلاق، ذمہ داری کے احساس اور دینی شعور سے آراستہ ہو۔
واضح رہے کہ زینیتسا بوسنیا و ہرزیگووینا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ملک کے وسطی حصے میں واقع ہے اور یہاں ایک فعال مسلم آبادی کے ساتھ متعدد دینی و تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں، جو نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔/
4357169