اسلامی جمہوریۂ ايران كی وزارت خارجہ كے ترجمان محمد علی حسينی نے كہا ہے كہ ايران پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی كے استعمال سے متعلق ملت ايران كے حقوق كے حصول اور منصفانہ راہ حل تلاش كرنے كے لئے غير مشروط مذاكرات پر يقين ركھتا ہے ۔ايران نے بعض يورپی ذرائع ابلاغ كے پروپيگنڈے اور يورپی حكام كے بيانات كے ردعمل میں ايك بار پھر ایٹمی معاملے سے متعلق مذاكرات كے لئے ہر طرح كی پيشگی شرط كو مسترد كرديا ہے ۔
27 اور 28 ستمبر كو ايران كی اعلیٰ قومی سلامتی كونسل كے سيكریٹری علی لاريجانی اور يورپی يونين كی خارجہ پاليسی كے ڈائريكٹر خاوير سولانا كے درميان ایٹمی معاملے پرمذاكرات كا چوتھا دور ہوا اور فريقين نے مذاكرات جاری رہنے كی اميد كا اظہار كيا ہے ۔ايسے حالات میں بعض يورپی ذرائع ابلاغ اور سياسی حلقے امريكہ كی پيروی كرتے ہوئے ايران كی جانب سے يورينيم كی افزودگی روكنے كو مذاكرات كی پيشگی شرط كا مسئلہ اٹھا كر مذاكرات كے حوالے سے پائے جانے والے مثبت ماحول كو كشيدہ بنانے كی كوشش میں ہیں ليكن تجربے سے پتہ چلتا ہے كہ بعض يورپی ممالك كی جانب سے ايران كے ایٹمی معاملے كو غلط راستے پر ڈالنے كے سلسلے میں عجلت پسندی سے كام لئے جانے كا نہ صرف كوئی مثبت نتيجہ برآمد نہ ہوگا بلكہ اس سے حالات زيادہ پيچيدہ ہوجائیں گے كيونكہ عالمی برادری كی اكثريت پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی تك رسائی پر مبنی ايران كے حق پر زور ديتی ہے اور وہ ايران كے ایٹمی معاملے كے پرامن حل كی خواہاں ہے ۔وائٹ ہاؤس كے حكام اوران كے بعض يورپی اتحاديوں كااصل مقصد ملت ايران كو پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی كے استعمال سے محروم كركے ايران كی ترقی كے سد راہ ہونا ہے ۔ايران اگر چہ مذاكرات كی حمايت كرتا ہے اور مذاكرات كو مسائل كا بہترين حل جانتا ہے ليكن مذاكرات صرف مساوی سطح پر اور غير مشروط ہونے كی صورت میں ہی سودمند ہوسكتے ہیں -