قومی اسمبلی كی سپريم كمیٹی كے ركن محسن كوھكن نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) سے بات چيت میں امام حسن مجتبیۜ كی ولادت باسعادت اور انكی معاویہ سے صلح كا تاريخ اسلام اور امت اسلامی كے اتحاد میں كردار كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا :آﺋمہ معصومين ۜ میں سے ہر ايك كا كردار اپنے دور كے حالات اور سياسی و معاشرتی شراﺋط كے تابع تھا اور یہی عمل اس زمانہ كا بہترين عمل تھا اور اس كی صحيح تشخيض اور اس كے مطابق عمل ہی بتاتا ہے كہ وہ رحمت الہی اور وحی خداوندی سے گہرا ربط ركھتے تھے-
انہوں نے مزيد كہا: آﺋمہ معصومين ۜ میں سے ہر ايك كا كردار رسول اسلام ۖ كی سيرت كا پيكر تھا اور ہر ايك نے ا س كو اپنے دور كے حالات كے مطابق ڈھال كر ظلم وزيادتی كا سد باب كيا-
انہوں نے امام حسن مجتبیۜ كی صلح كو دينی پيشواٶں كے كردار كا ايك بہترين نمونہ قرار ديتے ہوۓ كہا : آﺋمہ كی حكومت كا زيادہ دير تك باقی نہ رہنا اس بات كی دليل ہے كہ انكے دور كے ظالم اور غاصب حكمران انكی عدل و انصاف پر مشتمل حكومت كو برداشت نہیں كرسكتے تھے-
ميونسپل كمیٹی تہران كے سماجی اور ثقافتی سيكرٹری :قرآن پر عمل ہی دنياۓ اسلام كے مركز كو زيادہ مضبوط بنانے كا سبب ہے –
سماجی گروپ:اگر اسلامی جمہوریہ ايران قرآنی تعليمات كو اپنی زندگی كےمختلف پہلوٶں میں عملی جامعہ پہناۓ تو دنياۓ اسلام كا مضبوط مركز بن سكتا ہے -
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كےمطابق ميونسپل كمیٹی تہران كے سماجی اور ثقافتی سيكرٹری احمد نوريان نے ميونسپل كمیٹی نمبر۱۹ كی جابری مسجد میں منعقدہ قرآنی محافل میں كہا: بچوں اور نوجوانوں كا قرآن سے گہرا رابطہ ہی ہماری بقا كا ضامن ہے اور اس راہ میں شہر كے ذمہ دار افراد ،علماء اور قرآنی اساتذہ كے ساتھ ملكر لوگوں كو قرآن سے نزديك لانے اور اسے معاشرہ كے اندر راسخ كرنے میں اپنا كردار ادا كریں گے-
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ شہر كا ذمہ دار طبقہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے كہ وہ لوگوں كے خادم كی حيثيت سے قرآنی ثقافت كی ترقی اور اسے عام كرنے میں اپنی تمام تر تواناﺋيوں كو بروے كار لاۓ-