مسعود انصاری نے ايكنا سے گفتگو كرتے ھوئے كہا كہ كچھ آيات "قل" اور "قولوا" جيسے الفاظ سے شروع ھوتی ھیں جس میں خدواند صرف مسلمانوں كو ھی نہیں بلكہ دوسرے اديان سے تعلق ركھنے والوں سے بھی گفتگو كی دعوت ديتا ھے ـ
دوسرے اديان كے پيروكاروں كے باھمی تبادلہ خيال سے عموماً یہ سمجھا جاتا ھے كہ وہ اپنے دين كا دفاع ھی كریں جبكہ اس تصور سے ھٹ كر اديان كے مشتركہ پہلوؤں پر بھی گفتگو ہو سكتی ھے ـ
قرآن كی بعض آيات میں حضرت عيسیٰ (ع) اور دينی علماء كو "كلمۃ اللہ" سے تعبير كيا گيا ھے لھٰذا حضرت عيسیٰ (ع) اور عالمان دينی ايك مشتركہ موضوع كی حيثيت سے موضوع گفتگو بن سكتے ھیں ـ