ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے اسلام آن لاﺋن كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ حكومت اسپين كا فرانس جيسا ضد حجاب قانون بنانے كے ادارے سے مسلمانوں میں اضطراب كی لہر دوڑ گئی ہے –
اسپين میں موجود اسلامی انجمنوں نے اسلامی آزادی كو سلب كرنے كی ہر قسم كی كوشش كی مخالفت كی ہے –اسلامی فیڈريشن كے صدر اور عبد السلام منصور اسكودرو نے گورنمنٹ اسپين كو مشورہ ديا ہے كہ دوسرے يورپی ممالك كی ديكھا ديكھی اسپين میں حجاب پر پابندی نہ لگائی جاۓ اور نہ ہی اسے محدود كيا جاۓ-
اسكودرو نے مزيد كہا كہ جو حكومت حجاب اسلامی پر پابندی لگاتی ہے در حقيقت وہ شخصی آزادی كو سلب كرتی ہے –
یہ بات بھی قابل ذكر ہے كہ فرانس نے ۲۰۰۴ ء میں تمام اسكولوں میں حجاب اسلامی پر پابندی لگا دی تھی جس سے ملك میں عظيم فتنہ بپا ہوگيا تھا-
واضع رہے كہ اسپين كی ۶ ملين كی آبادی میں ۸ لاكھ مسلمان ہیں-