ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی كے اعزازی نامہ نگار رسا خبر رساں ايجنسی سے نقل كيا ہے كہ آيت اللہ العظمی حسين وحيد خراسانی نے ۱۰ ذی قعدہ كو مسجد اعظم میں اصول فقہ كے درس خارج میں امام رضا كی ولادت با سعادت كی مناسبت سے گفتگو كرتے ہوۓ فرمايا :اگر كوئی امام رضاۜ كی ذرہ برابر معرفت حاصل كرے اور وہ تحقيق و معرفت كی اعلی منزل پر فاﺋز تو پھر وہ پہچان سكتا ہے كہ علی ابن موسی الرضا ۜ كون ہیں؟
انہوں نے فرمايا كہ توحيد و رسالت كے بعد مہمترين بحث امامت كی بحث ہے اور بحث امامت ايك گہرا سمندر ہے
مرجع تقليد نے امامت كو نبوت سے دو درجے بلند و بالا ہونے كو بيان كرتے ہوۓ فرمايا كہ اس دعوی كی دليل یہ ہے كہ خداوند متعال نے حضرت ابراہيم كو نبوت و رسالت دينے كے بعد مقام خلافت بھی عطا كيا اور اس كےبعد اپنے خليل كے كئی ايك امتحان لیے جب خليل خدا ہر امتحان میں سرخرو ہوۓ تو فرمايا (انی جاعلك للناس اماما)
یہ ہے مقام امامت جو حضرت ابراہيم كو نبوت و رسالت اور خلافت كے بعد عطا ہوا –
مرجع تقليد نے آخر میں دينی طلاب كو بالخصوص اور تمام عاشقان اھل بيت كو بالعموم آٹھویں امام كی حيات طيبہ كا دقت سے مطالعہ كرنے كی نصيحت كی اور مزيد فرمايا كہ طلاب دينیہ كے لیے ضروری ہے كہ ہر روز كم از كم ايك صفحہ اصول كافی كا ضرور مطالعہ كریں تاكہ معارف اسلام بالعموم اور مقام امامت بالخصوص سمجھ سكیں-