ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے رویٹرز نيوز ايجنسی سے نقل كيا ہے كہ ايك مسلمان پوليس تجزیہ نگار جس كا نام نہیں ليا گيا اس نے اپنی شكايت میں كہا ہے كہ دھشتگردی كے امور میں سی آئی اے كا ماہر بروس تف جو نيو يارك میں سن ۲۰۰۲ ء سے ادارہ پوليس میں مشير كے عہدہ پر مشغول تھا، اس نے نيو يارك كے ملازمين كو ای ميل كے دوران قرآن اور اسلام كی توھين كی ہے-
تف نے اپنے ايك ای ميل میں لكھا تھا :جو شخص بھی خيال كرے كہ اسلام ايك دين ہے وہ احمق ،اندھا اور جاہل ہے-
نيو يارك پوليس كا یہ مصری مسلمان افسر كہ جس كا كام شدت پسند اور قوم پرست انٹرنیٹی ساﺋیٹوں كی جانچ پڑتال ہے ،اس نے اپنے شكايت میں لكھا ہے كہ اس سی آئی اے كے سابقہ مامور نے دوسرے ای ميل میں قرآن پر حملہ كرتے ہوۓ لكھا ہے انيسویں اور بيسویں صدی كی خطرناك دس كتابوں میں سے ايك قران ہے جو نفرت سے لبريز ہے ،كم از كم اس كے جلانے كا كام سب كے لیے فراہم ہونا چاہیے –
اس مسلمان افسر كے وكيل ايلان مازل نے كہا:سوال یہ ہے كہ كس طرح اتنے بے شمار قوم پرستی پر مشتمل ای ميل اس سی آئی اے كے مامور كی طرف بھيجے جاتے رہے اور كوئی اس كو روكنے والا نہیں ہے-