ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ حاج شيخ محمد حسين كاشف الغطا فلسفہ ،حديث اور رجال میں بہت ماہر تھے –ان علوم كے علاوہ آپ بہت بڑے اديب بھی تھے –
انہوں نے ۸۰ سے زيادہ كتابیں تحرير فرماﺋیں جن میں نماياں كتابیں ،الفردوس الاعلی ،اور اصل و اصول الشيعہ ہے –محمد حسين كاشف الغطا دس سال كی عمر میں حوزہ علمیہ نجف میں داخل ہوۓ ادبيات عرب ،حساب ،نحو، فقہ و اصول كو بڑے شوق سے حاصل كيا -۱۸ سال كی عمر سے پہلے حوزہ كے تعليمی مراحل كو تمام كركے آيت اللہ سيد محمد كاظم يزدی اور آيت اللہ آخوند خراسانی كے درس خارج میں شريك ہونے لگے-
مرحوم كاشف الغطا نے آيت اللہ سيد محمد كاظم يزدی كی كتاب٫٫ العروۃ الوثقی،، كی چار جلدوں میں شرح لكھی –
كاشف الغطا نے بہت سے شاگردوں كی تربيت كی –آيت اللہ سيد محسن الحكيم ،آيت اللہ محمد جواد مغنیہ ،آيت اللہ قاضی طباطبائی آپ كے شاگردوں میں ہیں-
اس عظيم عالم نے ۱۸ ذيقعدہ ۱۳۸۳ ھجری قمری میں وفات پائی اور انہیں نجف اشرف كے مشہور قبرستان وادی السلام میں سپرد خاك كيا گيا-