ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ دستغيب ۱۲۸۸ ھ ش بمطابق ۱۹۰۹ ء كو شيراز كے ايك مذھبی گھرانے میں پيدا ہوۓ –ولادت كے وقت آپ كے والد بزرگوار كربلا معلی كی زيارت كے لیے گۓ ہوۓ تھے-
جب آپ كو خبر ملی كہ ميرا بچہ دس محرم كو پيدا ہوا ہے تو انہوں نے بچے كا نام عبد الحسين ركھ ديا –
سيد عبد الحسين ۱۲ سال كی عمر میں حوزہ علمیہ نجف میں داخل ہوۓ –اور بزرگ اساتذہ سے كسب فيض كے بعد درجہ اجتہاد پر فاﺋز ہوۓ-
شہيد دستغيب بہترين خطيب اور مصنف تھے آيات قرآن كو سادہ زبان میں ترجمہ كر كے پيش كرتے تھے-
آپ نے بہت سی كتابوں كی تاليف و تصنيف كی جس میں سے بعض كتابیں یہ ہیں قلب سليم ،حقايقی از قرآن ،معراج ،گناہان كبيرہ ،حيرت انگيز داستانیں ،قلب قرآن ،معاد
آپ دوسرے علماء اسلام كی طرح طاغوتی حكومت سے مسلسل مقابلہ كرتے رہے جس كے سبب بارھا آپ كو جيل جانا پڑا-
طاغوتی حكومت كی نابودی اور انقلاب اسلامی كی كاميابی كے بعد آپ ۱۳۶۰ ھ ش بمطابق ۱۱ دسمبر ۱۹۸۱ ء كو شيراز میں نماز جمعہ كی امامت كے فراﺋض ادا كرنے كے لیے جا رہے تھے منافقين نے آپ پر حملہ كرديا جس سے آپ كی شہادت واقع ہوئی-