ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے بی بی سی سے نقل كيا ہے كہ دھماكوں كے بعد فائرنگ كی آوازیں سنی گئیں ليكن یہ ابھی واضح نہیں ہے كہ فائرنگ كس نے كی۔ اس كے علاوہ كچھ چھوٹے دھماكوں كی آوازیں بھی سنی گئیں۔
عراقی پوليس كا كہنا ہے كہ بغداد كے طيران سكوائر پر ہونے والے دھماكوں میں 150 كلو گرام وزنی دھماكہ خيز مواد استعمال كيا گيا۔ دھماكے مقامی وقت كے مطابق صبح سات بجے اس وقت ہوئے جب سكوائر میں كام كی تلاش میں سرگرم مزدوروں كی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔
پوليس كے مطابق ايك گاڑی كو خودكش حملہ آور چلا رہا تھا جبكہ دوسری گاڑی شہر كے مصروف علاقے میں كھڑی كی گئی تھی۔
جوگاڑی وہاں كھڑی تھی اس سے اعلان ہو رہا تھا كہ مزدور آكر وہاں كام كا پتہ كر سكتے ہیں۔
پوليس كے مطابق ان حملوں كا نشانہ پوليس كے دستے اور ان مزدوروں كا ہجوم تھا جو وہاں كام كی تلاش میں آئے تھے۔
وزارت داخلہ كے ايك اہلكار نے خبر رساں ادارے اے ايف پی كو بتايا كہ كام كے مواقع كے اعلان سے لوگ موقع پر اس طرح پہنچ رہے تھے جيسے ’ شہد پر مكھياں۔‘
دھماكوں میں كم سے كم دس مزيد گاڑياں بھی تباہ ہو گئیں۔
یہ دھماكے طيران سكوائر میں ہوئے جو كہ گرين زون كے احاطے كے قريب ہے جہاں سركاری عمارتوں كے علاوہ برطانوی اور امريكی سفارتخانے واقع ہیں۔