ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے اسلامی مركز برطانیہ كی خبر رساں ايجنسی كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ مسجد النصر كمیٹی كے سربراہ ٫٫علی تاشی٬٬ نے كہا ہے كہ اس ھم مسجد كے كچھ حصوں كو گرا كر اس میں تعمير و توسيع كرنا چاہتے ہیں انہوں نے كہا كہ اس كے بعد مسجد كی ظاہری شكل وصورت میں بھی تبديلی آ جاۓ گی –اور اس میں ۵ ہزار نمازيوں كے نماز پڑھنے كی گنجاﺋش ہوگی-
انہوں نے اخراجات كے بارے میں بتايا كہ حتمی طور پر تو كچھ نہیں كہا جاسكتا ليكن اميد كی جاتی ہے كہ تقريبا ۱۰ ملين يورو خرچ ہوں گے-
واضح رہے كہ یہ مسجد ۱۹۷۶ میں تعمير كی گئی تھی اور اس وقت ھالينڈ میں تقريبا ايك ملين مسلمان رھاﺋش پذير ہیں جن میں ۸۰ فيصد ترك نژاد اور ۲۰ فيصد مراكشی نژاد ہیں-