ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق مٶلف نے كتاب كے مقدمہ میں قرآن اور تفاسير كے مختلف پہلٶوں پر روشنی ڈالتے ہوۓ تفاسير روائی میں سب سے زيادہ مشہور تفسير كا ذكر كيا ہے اور پھر معارف قرآن كو اچھے انداز میں بيان كيا ہے-
مقدمہ میں مٶلف نے قرآن كی اھميت كو بيان كرتے ہوۓ لكھا ہے كہ جس طرح مخلوق اور خالق كا تقابل نہیں ہو سكتا اسی طرح خالق و مخلوق كے كلام كا بھی تقابل نہیں ہوسكتا
مٶلف محترم تحرير كرتے ہیں كہ قرآن روح كی غذا ہے –
قرآن وہ دستر خوان ہے جس میں مختلف طرح كی ضروری نعمتیں انسان كے لیے موجود ہیں –
یہ كتاب ۴۴۸ صفحات پر مشتمل ہے-