ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے بی بی سی سے نقل كيا هے كه پاكستان میں دينی جماعتوں كے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اقوام متحدہ كی طرف سے ايران پر پابنديوں كی مذمت كی ہے اور كہا ہے كہ یہ مسلمان ملكوں كے لئے اتحاد اور يكجہتی دكھانے كا اچھا موقعہ ہے۔
اتحاد كے سربراہ قاضی حسين احمد نے اتوار كو كراچی میں صحافيوں سے بات كرتے ہوئے كہا كہ اسرائيلی وزير اعظم كھلم كھلا كہہ رہے ہیں كہ وہ ایٹمی طاقت ہیں مگر ان پر كوئی پابندی نہیں لگائی جاتی، دوسرح طرف ايران بار بار اعلان كر رہا ہے كہ اس كا پروگرام پرامن مقصد كے لئے ہے ليكن اس پر پابندياں عائد كی جارہی ہے ۔
قاضی حسين احمد كا كہنا تھا كہ بدقسمتی یہ ہے كہ اس معاملے پر مسلمان ملكوں نے خاموش اختيار كی ہوئی ہےحالانكہ یہ موقعہ اتحاد اور يكجہتی دكھانے كا ہے۔ قاضی حسين احمد كے مطابق اگرمسلمان ممالك اسی طرح الگ الگ رہے، اور ايك دوسرے كی مدد كو نہ آئے تو خدشہ ہے كہ وہ ايك ايك كر كے مارے جائیں گے۔
مجلس عمل كے سربراہ نے قبائلی علاقے میں امريكی بمباری كی مذمت كی اور كہا كہ ايك تازہ واقعے میں ايك مسجد پر بمباری كی گئی ہے مگر حكومت میں اتنی ہمت نہیں ہے كہ دشمن كی طرف آنكھ اٹھا كر ديكھ سكیں۔
ايك سوال كےجواب میں انہوں نے كہا كہ مجلس عمل كے اركان اسمبلی كے استعفوں كا معاملہ طے ہوگيا ہے اور اس پر عملد رآمد عيد كے بعد ہوگا۔