ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے فرانسيسی اخبار International Herald Tribune سے نقل كيا ہے كہ جرمنی كے وزير قانون پر بريگيت زيپريز نے ہولو كاسٹ كے واقعہ كی اہميت پر تاكيد كرتے ہوۓ كہا :جرمنی كی قوم پرستی يا غيروں كے خلاف جنگ اور ہولو كاسٹ كے واقعہ كو زندہ ركھنے پر پابند ہونا نہ فقط ايك تاريخی ضرورت ہے بلكہ آج كی سياست كا تقاضا ہے-
اس نے مزيد كہا:ہم نے ہمشہ كہا ہے كہ يورپ میں یہ باقت قابل قبول نہیں ہے كہ كہا جاۓ كہ ہولو كاسٹ وجود نہیں ركھتا اور كبھی بھی ۶۰ لاكھ یہودی قتل نہیں ہوۓ-
خاتون زيپريز نے مزيد كہا:موجودہ حالات میں ہولو كاسٹ كے انكار پر آسٹريا ،جرمنی ،فرانس ،بليجئيم ،اسپين اور ھالينڈ میں یہ قانون بناۓ كہ جس كے تحت مجرم شخص كو ۵ سال جيل میں جانا پڑے گادر حالانكہ یہ سب ممالك آزادی بيان كے دعويدار ہیں اور پيغمبر اسلامۖ كی توہين پر مسلمانوں كے اعتراض كو آزادی بيان كے خلاف جانتے ہیں ،ابھی ان كے پاس كوئی ايسی دليل نہیں جو ان كے اس غير منطقی اقدام كی وضاحت كرس كے ياد رہے كہ يورپی يونين كی رياست كے لیے جرمنی كا چھ ماہ كا دورانیہ موجود عيسوی سال كی ابتداء سے شروع ہوا ہے-