ڈاكٹر ترجمان نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ سے بات چيت كرتے ہوۓ كہا كہ مذھبی اور دينی اعتقادات كی اہميت ا س قدر زيادہ ہے كہ یہ انسان كی بيماری میں كمی كا باعث بنتے ہیں كيونكہ اسلام میں اضطراب كے حقيقی سبب كو خدا سے دوری اور اس كی فراموشی قرار ديا گيا ہے اور جو شخص اپنی زندگی میں ہميشہ خدا كی ياد كو دل میں زندہ ركھتا ہے اس كے بدن میں موجود تمام سسٹم بھی اپنے طبعی انداز میں كام كرتا رہتا ہے –
انہوں نے مزيد كہا كہ اسلامی نظریہ كے تحت نماز٫ دعا اور ديگر عبادات انسان پر انتہائی مثبت اثرات چھوڑتے ہیں اور اس كے اصظراب اور بيماری میں كمی كا باعث بنتے ہیں اور تمام اديان میں ياد خدا اور دعا كو بدنی اور نفسياتی بريشانيوں سے رہائی كا عامل قرار ديا گيا ہے-