عراقی وزيراعظم نوری المالكی:ہم عوام كو يقين دلاتے ہیں كہ ايسے جرائم كا خاتمہ كر ديا جائے گا

IQNA

عراقی وزيراعظم نوری المالكی:ہم عوام كو يقين دلاتے ہیں كہ ايسے جرائم كا خاتمہ كر ديا جائے گا

12:13 - February 04, 2007
خبر کا کوڈ: 1523647
بين الاقوامی گروپ بغداد میں سنيچر كو ہونے والے بم دھماكہ میں ، 135 افراد جاں بحق ھو گئے ھیں ۔



ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نےبی بی سی سے نقل كيا ہے كہ عراقی وزيراعظم نوری المالكی كا كہنا ہے كہ وہ بغداد میں سنيچر كو ہونے والے بم حملے جيسے واقعات كا قلع قمع كر كے ہی دم لیں گے۔
ان كا كہنا تھا كہ بم دھماكے سابق عراقی صدر صدام حسين كے حاميوں كا كام ہے۔ انہوں نے كہا ’عراقی عوام اور دنيا كو اس واقعے سے دھچكا پہنچا ہے۔ صدام كے حامی ايك نيا جرم كرنے كے لیے لوٹے ہیں اور ہم عوام كو يقين دلاتے ہیں كہ ايسے جرائم كا خاتمہ كر ديا جائے گا‘۔
ادھر عراقی حكومت كے ايك ترجمان نے دعوٰی كيا ہے كہ بغداد میں ہونے والے نصف حملوں میں شام سے آنے والے شدت پسند ملوث ہیں۔ علی الدباغ نے عراقی ٹی وی پر كہا’ ہم یہ دعوٰی كر رہے ہیں اور ہمارے پاس اس كا ثبوت بھی موجود ہے‘۔

سنيچر كو بغداد كے شيعہ اكثريتی الصدریہ ڈسٹركٹ كے ايك بازار میں ہونے والے ٹرك بم دھماكے میں 135 افراد ہلاك اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

جب یہ دھماكہ كيا گيا تو لوگ رات كے كرفيو سے قبل اشيائے خوردونوش خريد رہے تھے۔ دھماكہ اس قدر زور دار تھا كہ اس سے اردگرد كے سٹالز تباہ ہوگئے اور زمين میں گہرا گڑھا پڑ گيا۔ امدادی كاركن ملبے سے انسانی اعضاء، لاشیں اور زخميوں كو نكال كر پك اپ ٹركوں كے ذريعے ہسپتالوں تك پہنچاتے رہے۔

الصدریہ كے نزديك واقع ابن النفيس ہسپتال كے وارڈ اور راہدارياں جلد ہی لاشوں اور زخميوں سے بھر گئے جبكہ متاثرين كے رشتہ داروں كی چيخ و پكار دور دور تك سنی جاسكتی تھی۔

نومبر میں بغداد كے صدر سٹی میں كیے گئے دھماكے میں دو سو سے زائد افراد ہلاك ہوئے تھے جبكہ بغداد ہی كے ايك مصروف بازار میں 22 جنوری كو پھٹنے والے بم سے 88 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

امريكی حكام بغداد میں مزيد 21500 فوجی تعينات كرنے كا ارادہ ركھتے ہیں۔ سن 2003 میں امريكی قبضے كے بعد سے یہ اب تك كا كيا جانے والا سب سے بڑا انفرادی دھماكہ تھا۔

نظرات بینندگان
captcha