ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے العربیہ ٹی وی چينل سے نقل كيا ہے الھرام الحكومیہ اخبار میں چھپنے والے اس فتوی میں شيخ علی جمعہ نے كہا ہے كہ دينی اصولوں كی بنا پر عورتوں كے لیے ملك اورمعاشرہ كی قيادت كرنا جائز نہیں كيونكہ حكومت كے قائد كی ذمہ داريوں میں سے ايك نماز میں امام ہونا ہے كہ یہ چيز عورتوں كے لیے جائز نہیں ہے-
شيخ علی جمعہ نے عورتوں كے جج بننے كے مسئلہ كے بارے میں كہا:اكثر فقہا جج بننے میں مرد كی شرط كے قائل ہیں ليكن اس كے باوجود ابو حنيفہ جيسے عظيم فقہا سے نقل ہوا ہے كہ وہ عورتوں كے جج بننے كو جائز جانتے تھے –
ابن جرير طبری نے بھی فتوی ديا ہے كہ قضاوت میں مرد ہونا شرط نہیں ہے اس لیے كہ عورت كے لیے مفتی بننا جائز ہے پس وہ قاضی بن سكتی ہے اور ہم اسی قول كے مطابق فتوی ديتے ہیں-