كراچی میں شاعر مشرق اور مفكر پاكستان علامہ محمد اقبال كی ياد میں جمعہ كو مير خليل الرحمن ميموريل سوسائٹی كے زيراہتمام اور جنگ گروپ آف نيوز پيپرز كے اشتراك سے منعقدہ تقريب كے مقررين نے علامہ اقبال كو نہ صرف مسلمانان پاك و ہند بلكہ ملت اسلامیہ كا نباض اور عظيم رہنما قرار ديا اور پاكستان كو ان كے تصورات كے مطابق بنانے كے لئے ان كے افكار سے رہنمائی حاصل كرنے كی ضرورت پر زور ديا۔ تقريب كی صدارت سابق وفاقی وزير اور ممتاز دانشور مير نواز خان مروت نے كی جبكہ سابق سينیٹر تنوير خالد مہمان خصوصی تھیں۔ مير خليل الرحمن سوسائٹی كے چيئرمين ارشد صابری نے خطبہ استقبالیہ پيش كيا جبكہ مقررين میں سابق وفاقی وزير پروفيسر اين ڈی خان، سابق صوبائی وزير دوست محمد فيضی، پروفيسر ڈاكٹر سيد محمد رضا كاظمی، پروفيسر ڈاكٹر سيد وقار احمد رضوی اور پروفيسر مير حامد علی شامل تھے۔ ممتاز شاعر راغب مراد آبادی اور شاعرہ شاہدہ حسن نے علامہ اقبال كو منظوم خراج عقيدت پيش كيا۔ غازی فاؤنڈيشن اسكول كی طالبات نے ملی نغمے پيش كئے۔ كم عمر طالب علم حافظ حسان عتيق نے تلاوت كی جبكہ ايرج زہرہ كاظمی نے نعت رسول مقبول ﷺ پڑھی، ايك كم عمر طالبہ نے اپنے فن كا مظاہرہ بھی كيا۔ مير نواز خان مروت نے اپنے خطاب میں كہا كہ علامہ اقبال ملت اسلامیہ كے نباض، نقيب اور جوہر ناياب تھے۔ انہوں نے صرف مسلمانان ہند كو نہیں بلكہ عالم اسلام كے مسلمانوں كو جھنجھوڑا ہے۔ انہوں نے كہا كہ ايك وقت تھا جب مسلم ليگ شفيع ليگ اور جناح ليگ میں بٹی ہوئی تھی۔ علامہ اقبال نے نہ صرف ان دونوں كو اكٹھا كيا بلكہ قائداعظم محمد علی جناح كو لندن سے واپس لائے۔ اگر جناح واپس نہ آتے تو پاكستان نہ بنتا۔ یہ علامہ اقبال كا ہم پر احسان عظيم ہے۔ انہوں نے كہا كہ اقبال كا تصور جمہوريت موجودہ جمہوريت سے مختلف ہے۔ وہ اسلامی جمہوريت كے قائل ہیں جس میں بندوں كو صرف گنا نہیں جاتا بلكہ ان كا كردار بھی ديكھا جاتا ہے۔ سابق سينیٹر تنوير خالد نے اپنے خطاب میں كہا كہ اقبال نے اس وقت كے مسلمانان ہند كی حالت زار اور ان كے ماضی كو مدنظرركھتے ہوئے انہیں مستقبل كی راہ دكھائی۔ اب اس ملك كو اقبال كے تصور كے مطابق بنانا چاہیے۔ پروفيسر اين ڈی خان نے كہا كہ فكر اقبال ہی فكر پاكستان ہے۔ ليكن سوال یہ پيدا ہوتا ہے كہ كيا موجودہ پاكستان اقبال كے تصور سے مطابقت ركھتا ہے۔ اقبال مغربيت كا شكار نہیں تھے بلكہ جديديت چاہتے تھے۔ وہ اشتراكی نہیں تھے ليكن سرمایہ داری كے مخالف تھے۔ وہ بنياد پرست نہیں تھے ليكن قدامت پرستی كے خلاف تھے۔ ان كے افكار جمہوری تھے اور وہ ترقی پسند تھے۔ اگر ہمیں پاكستان كو اقبال كے تصور كے مطابق بنانا ہے تو ہمیں آمروں سے نجات اور حقيقی جمہوريت كی بحالی كے لئے مل كر جدوجہد كرنا ہو گی۔ سابق صوبائی وزير دوست محمد فيضی نے اپنے خطاب میں كہا كہ اقبال ايك شاعر، مفكر، فلسفی، مصلح، رہنما، دانشور اور وكيل تھے۔ ان كی شخصيت كے كئی پہلو تھے، ليكن ايك پہلو یہ بھی ہے كہ وہ مفكر پاكستان كے ساتھ ساتھ محسن پاكستان بھی ہیں۔