ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق یہ عظيم خاتون ماہ ذی قعد ۱۷۳ ھجری قمری كو اور بعض مورخين كےمطابق ۱۸۳ ھجری قمری كو مدينہ میں پيدا ہوئیں –اپنی حيات طيبہ كے دوران اپنے والد گرامی كی شہادت كا غم اور امام رضا علیہ السلام كی دوری كا صدمہ برداشت كيا-
آپ سلام اللہ علیھا حوادث زمانہ سے آگاہ ٬محدثہ ٬خطيبہ اور بہترين معلمہ تھیں-آپ كی زير تربيت كئی افراد نے تعليمات اسلامی كا درس حاصل كيا-آپ سے كئی كرامات نقل ہوئی ہیں
آپ اپنے برادر گرامی حضرت امام رضا علیہ السلام كی ھجرت كے ايك سال بعد اپنے بھائی كی ملاقات اور زيارت كے شوق سے اور پيغام ولايت كو عام كرنے كی غرض سے اپنے بھائيوں اور بھتيجوں كے ہمراہ خراسان كے لیے نكلیں اور راستے میں آنے اولے كئی شہروں میں آپ كا استقبال كيا گيا –اور آپ نے ہر مقام پر اپنی پھوپھی زينب كبری سلام اللہ علیھا كی طرف اپنے بھائی كی غربت كا پيغام پہنچاتی رہیں-جب آپ كا كاروان قم كے نزديكی شہر ساوہ پہنچا تو كچھ دشمنان اھلبيت نے آپ پر حملہ كر ديا جس كے نتيجہ میں تقريبا كاروان میں موجود تمام مرد شہيد ہو گۓ حتی ايك روايت كے مطابق آپ كو بھی زھر دے ديا گيا-
اس كے بعد آپ قم تشريف لائیں اور ۱۷ روز زندہ رہنے كے بعد اپنے خالق حقيقی سے جا ملیں قم میں آپ كا روضہ انور تمام عاشقان اھلبيت علیھم السلام كے لیے عظيم ريارت گاہ ہے-